اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے انکم ٹیکس ریٹرن صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانے کی تجویز منظور کر لی ہے، جس کے بعد ملک میں ٹیکس فائلنگ کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق آئندہ تمام ٹیکس دہندگان کو اپنی انکم ٹیکس ریٹرن صرف ایف بی آر کے آن لائن سسٹم “آئرس” کے ذریعے جمع کرانا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنیوں کے مالیاتی گوشوارے بھی اب مشین ریڈ ایبل فارمیٹ میں جمع کرانا لازمی ہوگا تاکہ ڈیٹا کو خودکار نظام کے ذریعے آسانی سے پراسیس کیا جا سکے۔
ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں 2013 کے بعد سے بڑی حد تک مینوئل ریٹرنز کا سلسلہ ختم کیا جا چکا ہے، تاہم بعض شہروں میں اب بھی جزوی طور پر دستی طریقہ کار موجود تھا، جسے اب مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت “الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم” کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ریٹرنز کی جانچ اور تصدیق خودکار نظام سے ہوگی۔ اس نظام کو اختیار کرنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے ریٹرن میں ریوائز کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
حکام نے واضح کیا کہ اس جدید نظام میں کمشنر کی پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی جبکہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والے ٹیکس دہندگان پر اضافی جرمانہ یا سرچارج بھی لاگو نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل معیشت کے قریب لے جانے اور کرپشن و تاخیر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔


