اسلام آباد میں عورت مارچ کی گرفتاریاں اس وقت ہوئیں جب اتوار کے روز پولیس نے ریلی کے دوران 14 افراد کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں 11 خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں سیکٹر ایف-6 میں اس وقت ہوئیں جب شرکا عورت مارچ کے لیے جمع ہوئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منتظمین نے ایف-6 سے ڈی چوک تک مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے گرفتاری کے دوران کچھ دیر کے لیے سڑک بند کی جو بعد میں دوبارہ کھول دی گئی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس ریلی کے لیے کوئی اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ شہر میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ تھی جس کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی تھی۔
دوسری جانب عورت مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً ایک ماہ قبل ڈپٹی کمشنر کو اجازت نامے کے لیے درخواست دی تھی۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے اس درخواست کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے بتایا کہ مارچ کے چند اہم رہنما اور حامیوں کو جی-7 تھانے منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے باعث کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں تھانے کے باہر جمع ہونے والے چند افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ان پر سرکاری کام میں مداخلت کا الزام ہے اور ان کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
منتظمین کا ردعمل
عورت مارچ اسلام آباد کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے گرفتاریوں کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ رضاکاروں اور شرکا کو احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا۔
بیان کے مطابق احتجاج دوپہر ایک بجے ایف-6 میں مسٹر بکس کے باہر ہونا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ریلی شروع ہونے سے پہلے کارروائی کی۔
منتظمین نے الزام لگایا کہ بعد میں تھانے آنے والے اہل خانہ اور حامیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ان کے مطابق احتجاج کا مقصد خواتین، بچوں اور اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ مظاہرہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کے لیے بھی کیا جانا تھا۔
منتظمین نے کہا کہ عالمی یومِ خواتین کے دن ایسی گرفتاریاں افسوسناک ہیں۔ انہوں نے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے شرکا سے اپیل کی کہ مزید گرفتاریوں سے بچنے کے لیے منتشر ہو کر گھروں کو واپس چلے جائیں۔ منتظمین کے مطابق گرفتار افراد کی رہائی کے لیے قانونی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

