Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

پشاور پولیس لائن خود کش حملے کا مرکزی ملزم کانسٹیبل گرفتار

پشاور(نیوزڈیسک) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 30 جنوری 2023 کو پولیس لائن پر خود کش حملے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔گرفتار ہونے والے ملزم کا نام محمد ولی ہے جو خیبر پختون خواہ پولیس میں کانسٹیبل اور پشاور کا رہائشی ہے۔

دوران تفتیش محمد ولی نے بتایا کہ 2021 میں فیس بک پر جنید نامی آئی ڈی سے رابطہ ہوا۔ جو جماعت الاحرار کا ریکروٹمنٹ ایجنٹ تھا ۔ وہ افغانستان میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ریکروٹمنٹ کرتا تھا ۔ جنید نے مجھے افغانستان آ کر ملنے کے لیے کہا ۔ 2021 میں چھٹی لے کر چمن بارڈر سے افغانستان گیا ۔ جلال آباد افغانستان میں میری ملاقات جنید سے ہوئی ۔ جنید مجھے شونکڑے اور چکناور مرکز کنہڑ لے کر گیا ۔کانسٹیبل محمد ولی 2019 میں پولیس میں بھرتی ہوا۔

اس نے کہا کہ کنہڑ میں میری ملاقات دہشت گرد کمانڈر صلاح الدین اور مکرم خراسانی سے ہوئی ، ملاقات کے بعد میں نے جماعت الاحرار میں شمولیت اختیار کر لی ، دہشت گرد کمانڈر ملا یوسف کے ہاتھ پر بیعت کی، جماعت الاحرار میں شامل ہونے پر مجھے بیس ہزار روپے ملے، واپسی پر افغان فورسز نے گرفتار کیا لیکن جماعت الاحرار کی مداخلت پر رہا کر دیا، 2023 میں میری ڈیوٹی پولیس لائن پشاور میں تھی۔

محمد ولی نے بتایا کہ جنید نے مجھے کہا کہ کمانڈر خالد خراسانی کی “شہادت” کا بڑا بدلہ لینا ہے ، جنوری 2023 میں پولیس لائن کی تصویریں اور نقشہ ٹیلی گرام پر جنید کو دیا ، 20 جنوری 2023 کو خودکش حملہ آور کو چرسیاں مسجد، خیبر سے لے کر آیا اور پولیس لائن مسجد کی ریکی کروائی، حملہ آور کا نام قاری اور قومیت افغان تھی، سانحہ پولیس لائن والی صبح 11 بجے خودکش حملہ آور کو چرسیاں مسجد باڑا سے لینے گیا، مسجد میں حملہ آور خود کُش جیکٹ اور پولیس وردی سمیت موجود تھا۔

اس نے کہا کہ حملہ آور کو چرسیاں مسجد سے موٹر سائیکل پر رحمان بابا قبرستان لے کر آیا، جہاں بمبار کو پولیس کی وردی اور خود کُش جیکٹ پہنائی، پھر موٹر سائیکل پر بٹھا کر پولیس لائن کے پاس چھوڑا، حملہ آور مسجد چلا گیا، میں گھر واپس آ گیا، دھماکہ ہو گیا تو جنید کو ٹیلی گرام پر پیغام بھیجا کہ حملہ کامیاب ہو گیا ہے، پولیس لائن خودکش حملہ کروانے پر مجھے دو لاکھ روپیہ معاوضہ ملا، جو میں نے ہنڈی حوالہ کے ذریعے موصول کیا۔
پنجاب بھر میں 15 نومبر بروز جمعۃ المبارک کو ’’نماز استسقاء‘‘ ادا کرنیکا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں