لاہور (نیوزڈیسک) پنجاب اسمبلی میں شادی بیاہ تقریبات میں رقص و موسیقی کے اجتماعات پر پابندی لگانے کی قرارداد پیش کر دی گئی۔ایم پی اے حمیدہ میاں جن کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے، نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ میں ڈانس اور میوزک پارٹیوں کی آڑ میں معاشرے میں بیہودگی کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں پنجاب کی روایتی ثقافت کو داغدار کر رہی ہیں۔
ایم پی اے حمیدہ میاں نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 294 میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شادی کی تقریبات میں سماجی اور مذہبی اقدار کو برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔اس نے خواتین رقاصوں یا ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کو جرمانے اور سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
ایم پی اے حمیدہ میاں کی قرارداد پر ایوان تقسیم، کچھ ارکان اسمبلی کی قرارداد کی حمایت تو کچھ مخالفت میںکھڑے ہوگئے ایم پی اےعظمیٰ کاردار نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ رقص اور موسیقی شادی کی تقریبات خوشی کے چھوٹے لمحات ہیں۔
اجلاس کی کارروائی کے دوران سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے معاشرے کے دوہرے معیار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب مہک ملک کو پرفارمنس کیلئے بلایا جائے تو اسے کلچر اور آرٹ شو کہا جاتا ہے لیکن جب کوئی عام شہری ایسا کرتا ہے تو اسے بے حیائی کے طور پر لیا جاتا ہے۔
تراڑکھل آزادکشمیر ، شہر میںخوفناک آتشزدگی، آگ نے 13 دکانیں ، 2 ہوٹلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
