تراڑکھل (نیوزڈیسک) آزادکشمیر کے علاقے تراڑکھل قلعاں منشاء شہر میں آگ نے تیرہ دکانیں دو ہوٹل اپنی لپیٹ میں لے لئے ۔اسسٹنٹ کمشنر تراڑکھل عبدالقادربیٹھک اعوان کے مطابق صبح کے وقت قلعاں منشاء آباد شہر میں لگنے والی آگ سے تیرہ دوکانیں جل کر خاکستر ہو گئی تاجروں کا کروڑوں کا مالی نقصان۔
بھڑکتی آگ نے متعدد دوکانات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دوکانوں میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑک اٹھی ۔ آگ پر قابو پانے کے لیے مقامی افراد کی بڑی تعداد نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور مزید نقصان سے شہر کو بچا لیا۔فائر بریگیڈ کی گاڑی تراڑکھل میں 2011 سے موجود لیکن اسٹاف نہ ہونے سے ناکارہ ہوتی جا رہی ہے۔
ریسکیو اسٹاف نہ ہونے سے بلوچ ، بیٹھک اور اب قلعاں میں تاجروں کا تشزددگی سے کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے جو کہ حکومتی نمائندوں کی نااہلی کا ثبوت ہے.انٹرنیشنل ہیومن کے صدر ارشد فاروق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا تراڑکھل پولیس صبح سے عوام کیساتھ موجود رہی آگ بجانے میں عوام علاقے سميت پولیس کا کردار بھی مثالی۔
ہماری بےحسی کے 2011 میں تراڑکھل شہر میں آتشزدگی کے بعد عوام نے احتجاج کے زور پر فائر بریگیڈ کی گاڑی تو لے لی لیکن تاحال نہ ڈرائیور نہ بقیہ اسٹاف مہیا کیا گیا۔ہر سال کسی نہ کسی شہر میں آگ لگنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔بلوچ ہسپتال ہو یا بیٹھک بازار میں دوکانیں ہوں یا قلعاں میں حکومت کو معاملے کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔آخر کب تک عوام احتجاج کے زور پر اپنے مطالبات منواتے رہیں گے۔




