Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

لاہور میں رشوت لیتے چار جعلی مجسٹریٹ نوسرباز ایک ہی دن میں گرفتار

لاہور(نیوزڈیسک) شالیمار اور تحصیل سٹی سے 4 جعلی نوسرباز مجسٹریٹ گرفتار کر لیے ۔ چاروں نوسرباز بطورِ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دکانوں کو چیک کر رہے تھے ۔ نوسرباز خود کو پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بتاتے تھے ۔ نوسربازوں نے دکانوں کو سیل کر کے مالکان کو جرمانہ عائد کیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر شالیمار ڈاکٹر انعم فاطمہ طاہر اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی رائے بابر علی نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے نوسر بازوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ۔

اسسٹنٹ کمشنرز شالیمار اور سٹی نے نوسربازوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا.نوسربازوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کروا دیا گیا ۔شہری کسی بھی مقام پر نوسرباز دیکھیں تو فوری اطلاع کریں ۔نشاندہی کی صورت میں ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دیں ۔

شہری نو سربازوں سے ہوشیار رہیں اور شہر لاہور کو کرپٹ اور بلیک میلنگ عناصر سے محفوظ رکھنے کے لئے ضلعی انتظامیہ لاہور کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کریں ۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک ہی دن میں رشوت لیتے ہوئے 4 جعلی مجسٹریٹ پولیس نے پکڑ لئے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقے شالیمار ٹاون میں چشمہ پہنے شخص چند دستاویزات اور ہاتھ میں ڈائری پکڑے ایک دکان میں داخل ہوتے ہوئے دکاندار پر رعوب جھاڑنے لگا جیسے یہ مجسٹریٹ ہے اور ریٹ لسٹ چیک کرکے دکاندار سے تحکمانہ لہجے میں مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دینے لگا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ انتظامیہ نے اسے پکڑنے کیلئے پہلے ہی جال بچھا رکھا ہے ۔ مذکورہ دکاندار نے بڑے ٹھنڈے لہجے میں اس شخص کو کہا کہ ’آپ بیٹھیں ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔

اسی دوران دکاندار نے ادکاری کرتے ہوئے کمال مہارت سے انتظامیہ کو موبائل فون سے میسج کردیا کہ آپ کا شکار میری دکان میں آچکا ہے۔ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد اچانک پولیس کی گاڑیاں رکیں اور اس کالی جیکٹ میں ملبوس شخص، جس کا نام عمران تھا اسے حراست میں لے لیا۔

اسسٹنٹ کمشنر شالیمار انعم فاطمہ کا کہنا تھا کہگزشتہ ایک ماہ سے جعلی مجسٹریٹ کے بازار میں گھومنے کی خبریں مل رہی تھیں، دکانداروں کو کیسز کی دھمکیاں دے کر ان سے رشوت وصول کی جاتی رہی۔ یہ ہمارے لیے ایک امتحان تھا ، شکایات دو درجن سے بڑھ چکیں  تو ہم نے ایک جامع منصوبہ بندی کی اور شالیمار کے علاقے میں تمام تاجر یونینز کو الرٹ کر دیا کہ اب ہم نے ایسے افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے۔‘

اسسٹنٹ کمشنر شالیمار انعم فاطمہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح کا ایک شخص ایک آٹا چکی پر یہی سارا کچھ کر رہا تھا اور اس آٹا چکی کے مالک نے ہمیں اطلاع دیدی اور پانچ ہزار روپے رشوت بھی اس کے حوالے کر دی ، تاہم ہماری ٹیم نے پہنچ کر رقم سمیت ملزم کو گرفتار کر لیا۔‘اسسٹنٹ کمشنر نے مزید بتایا کہ ’یہ شخص بھی اسی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ ابتدائی معلومات میں ہمیں پتہ چلا کہ ملزمان نے مجسٹریٹ کا روپ دھار کر پچھلے ڈیڑھ مہینے سے نہ صرف دکانداروں کو ہراساں بلکہ کئی دکانوں کو جعلی طریقے سے سیل بھی کیا اور سیل کھولنے کی مد میں رقم حاصل کی۔‘

شالیمار میں ایک ہی دن میں مختلف وارداتیں ہوتی رہیں اسی طرح سبزہ زار کے علاقے میں بھی ایسے ہی دو مجسٹریٹ دندناتے پھر تے رہے انہیں بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ انتظامیہ کا جال ان کا انتظار کر رہا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی بابر رائے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مجسٹریٹ کی آڑ میں دکانداروں کو لوٹنے والوں کے محاسبے کیلئے تمام دکانداروں اور تاجر تنظیموں کو الرٹ کر رکھا تھا کہ جو مجسٹریٹ بن کر رشوت طلب کرے، دکان سیل کرنے کا کہیں تو فوری طور پر ایمرجنسی نمبر پر رابطہ کر کے ان کی اطلاع دی جائے ان دونوں افراد کو بھی موقع سے گرفتار کر لیا ۔‘

اسسٹنٹ کمشنر سٹی بابر رائے کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے ایک ڈیڑھ مہینے سے اتنی زیادہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ مجسٹریٹ آتے ہیں اور نہ صرف ریٹ لسٹ چیک کرتے ہیں بلکہ اس کے بعد کئی دکانوں کو سیل کرکے بھاری رقوم بطور رشوت طلب کرتے ہیںور غائب ہو جاتے ہیں۔

بابر رائے کا کہنا تھا کہ ’ہمارا نظام ایسا ہے کہ ہر چیز باقاعدہ درج ہوتی ہے۔ اگر کہیں پر کوئی چیز مہنگی فروخت ہو رہی ہے تو پورے ثبوت کے ساتھ اس کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے، لیکن یہ جو وارداتیں ہو رہی تھیں ان کا کسی طرح کے ریکارڈ میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ یہ افراد مکمل منصوبہ بندی کے تحت اپنے اپ کو مجسٹریٹ ظاہر کر کے یہ کام کر رہے تھے۔‘چاروں مجسٹریٹس کو رنگ ہاتھوں گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج ہو چکے۔

خیال رہے کہ مریم نواز نے وزارت اعلیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے شہر بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ تعینات کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ضلعی حکومت کی طرف سے 26 پرائس کنٹرول مجسٹریٹ شہر میں قیمتوں کو مقررہ نرخوں پر قائم رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

یہ تمام مجسٹریٹ سرکاری افسران ہیں جن کا تعلق محکمہ ریونیو سے ہے اور یہ اپنے اپنے علاقے کے اسسٹنٹ کمشنرز کے ماتحت کام کرتے ہیں، تاہم اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ افراد نے باقاعدہ مجسٹریٹ بن کر لوگوں سے رشوت اکٹھی کی اور ان کے کاروبار بند کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت صرف دو گروپ ہم نے پکڑے ہیں جو اپنے اپنے طور پر یہ کام کر رہے تھے اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ ہم نے تمام شہر کی تاجر تنظیموں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے کہ ایسا کوئی بھی واقع ہو تو وہ فوری طور پر انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ ایسے افراد کو قابو کیا جا سکے۔‘

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحلی علاقوں میں7 شدت کا زلزلہ، سونامی وارننگ جاری

یہ بھی پڑھیں