اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ، جس میں والدہ نے اپنی بیٹی کے قتل کی دلخراش تفصیلات بتائیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
والدہ نے بتایا کہ پیر کی شام 5 بجے ملزم ہمارے گھرداخل ہوا اور فائرنگ کی، ثنا پر فائرنگ کرنےکےبعدملزم فرارہوا۔
مقدمے کے متن میں کہنا تھا کہ ثنا کو 2گولیاں لگیں،زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا۔
مزید برآں رپورٹ کے مطابق “ثنا کی پھوپھو کا کہنا ہے دونوں میں تکرار ہوئی ثنا نے کہا غصہ نہیں کرو میں پانی لاتی ہوں،اس دوران تکرار زیادہ بڑھی تو ثنا نے کہا کہ گھر کے اندر اور باہر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں کچھ ہوا تو تم ذمہ دار ہو ں گے،ملزم نے سب باتیں ہوا میں اڑاتے ہوئے ثنا پر فائرنگ کر دی، دو فائر کی انہوں نےآواز سنی۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نہ صرف گھر پہنچا بلکہ دوسری منزل پر مذکورہ فیملی قیام پذیر تھی اور سیڑھیاں چڑھ کر ملزم وہاں تک پہنچاجہاں دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی اور مقتولہ نے ملزم کو موقع سے جانے کو کہا اور یہی باتیں پھوپھونے سنیں جو انہوں نے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتائی ہیں، ملزم نے پھر فائر کیے جو مقتولہ کو لگے، اس کے بعد باہر نکلتا ہے اور گلی کے کونے سے دوڑنا شروع کردیتا ہے جس سے شبہ ہوتا ہے کہ ملزم کے پیسے پہلے سے کوئی گاڑی موجود تھی ، پھر کشمیرہائی وے سے ہوتا ہوا بذریعہ موٹروے فیصل آباد گیا جہاں روپوش ہوگیا لیکن بالآخر پکڑاگیا جس نے ابتدائی طور پر واردات کا اعتراف بھی کرلیا۔
یاد رہے گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوجوان نے ٹک ٹاکر خاتون کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ تھانہ سنبل کی حدود میں پیش آیا ، ٹک ٹاکر کا تعلق چترال سے ہے۔
پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم کی کچھ دیر خاتون سے بات ہوئی اور وہ گھر کے باہر کھڑا رہا جس کے بعد فائرنگ ہوئی۔ ملزم نے مقتولہ کو دو گولیاں ماری اور فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق گولیاں لگنے سے خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جس کی لاش کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہے اور ضابطے کی کارروائی کر کے میت کو اہل خانہ کے حوالے کردی ہے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم مقتولہ کا رشتہ دار ہے تاہم جائے وقوعہ سے ابتدائی شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور اطراف میں لگے کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جارہی ہے۔
بھارت کیخلاف 96 گھنٹوں کی جنگ مکمل اپنے وسائل سے لڑی، باہر سے کوئی مدد نہیں لی، جنرل ساحر شمشاد
