ممبئی(شوبز ڈیسک)ٹی وی اسکرین پر دلکش انداز اور مختلف کرداروں سے ناظرین کے دل جیتنے والی اداکارہ انیتا حسنندانی کی زندگی کی اصل کہانی پردے کے پیچھے خاصی مختلف ہے۔ گلیمر اور شہرت کے اس سفر میں انہوں نے کئی مشکلات اور ذاتی چیلنجز کا سامنا کیا۔
انیتا حسنندانی، جن کا اصل نام نتاشا حسنندانی ہے، ایک متوسط سندھی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سخت روایتی ماحول میں گزرا، جہاں والد کی سخت گیر طبیعت کے باعث انہیں مغربی لباس پہننے، شام کے بعد گھر سے نکلنے یا کھڑکی پر کھڑے ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے والد ایک بیٹے کی خواہش رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔
جب انیتا کی عمر محض 16 برس تھی تو والد کا انتقال ہو گیا اور گھر کی ذمہ داریاں ان پر آ گئیں۔ پڑھائی کے ساتھ انہوں نے منوج کمار کے دفتر میں بطور ریسپشنسٹ کام شروع کیا۔ اسی دوران، منوج کمار کے بیٹے نے ان کی شخصیت کو دیکھ کر فوٹو شوٹ کا مشورہ دیا، جس نے شوبز کی دنیا کے دروازے ان کے لیے کھول دیے۔
انیتا کا پہلا فلمی کردار سبھاش گھئی کی 1999 کی فلم “تال” میں آیا، جس میں وہ ایشوریا رائے کی سہیلی کے طور پر نظر آئیں۔ اگرچہ یہ ایک مختصر کردار تھا، لیکن اس کے بعد ان کے لیے ٹی وی کا سفر شروع ہوا۔ ایکتا کپور کے پروڈکشن میں بننے والا ڈراما “کبھی سوتن کبھی سہیلی” ان کا پہلا بڑا ٹی وی پروجیکٹ ثابت ہوا۔ بعد ازاں “کاویانجلی”، “کیونکی ساس بھی کبھی بہو تھی”، “یہ ہے محبتیں” اور “ناگن 3” جیسے کامیاب ڈراموں نے انہیں گھر گھر میں پہچان دی۔
انیتا نے تامل، تیلگو اور کنڑ فلموں میں بھی کام کیا، لیکن ساؤتھ انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ کے تلخ تجربے کے بعد انہوں نے وہاں کام کرنا ترک کر دیا۔ بالی ووڈ میں انہوں نے “کچھ تو ہے”، “کرشنا کاٹیج” اور “کوئی آپسا” جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔
روایتی گھرانے کی پابندیوں سے لے کر شوبز کی چکاچوند تک کا یہ سفر انیتا حسنندانی کے حوصلے اور محنت کی واضح مثال ہے، جو آج بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے مداحوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
