Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

عامر خان کی تیسری شادی پر تنقید، اداکار نے اہلیہ کے مذہب پر خاموشی توڑ دی

ممبئی: عامر خان کی تیسری شادی کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں جاری تنقید کے درمیان بالی ووڈ کے معروف اداکار نے پہلی بار اپنی اہلیہ گوری سپراٹ کے مذہب اور اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر کھل کر مؤقف پیش کر دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان نے کہا کہ ان کی اہلیہ گوری سپراٹ ہندو نہیں بلکہ ایک عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی نجی زندگی کے بارے میں گردش کرنے والے کئی دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

اداکار نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے ’’لو جہاد‘‘ سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان ہمیشہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے احترام کا قائل رہا ہے۔ ان کے بقول مذہب کی بنیاد پر کسی بھی فرد پر دباؤ ڈالنا ان کے خاندانی اصولوں کا حصہ نہیں۔

عامر خان نے کہا کہ ان کی دونوں بہنوں نے ہندو مردوں سے شادیاں کیں اور خاندان میں کبھی کسی کے مذہبی عقائد پر اعتراض نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی احترام اور رواداری ان کے خاندان کی روایت رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی زندگی میں ہونے والی تینوں شادیوں میں کسی بھی اہلیہ کا مذہب تبدیل نہیں کروایا گیا، اس لیے ان کی ذاتی زندگی کو سیاسی یا مذہبی تنازع کا حصہ بنانا مناسب نہیں۔

دوسری جانب عامر خان کی شادی پر مختلف مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ بعض مذہبی شخصیات نے شادی پر اعتراض کیا، جبکہ کچھ ہندو انتہا پسند گروہوں نے بھی اداکار پر تنقید کرتے ہوئے مختلف الزامات عائد کیے۔

تاہم اداکار نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ نفرت انگیز مہمات کا حصہ بننے کے بجائے باہمی احترام، مذہبی ہم آہنگی اور ذاتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ عامر خان کی تیسری شادی سے متعلق جاری بحث کے دوران ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں