Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

سندھ میں شیل گیس کے بڑے ذخائر، او جی ڈی سی ایل کا اہم فیصلہ

اسلام آباد: سندھ میں شیل گیس کے بڑے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق کے بعد آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے منصوبے کے اگلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر ڈرلنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے بتایا کہ سندھ کے حیدرآباد اور سانگھڑ کے علاقوں میں شیل گیس کی موجودگی تکنیکی طور پر ثابت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں شروع کیا گیا پائلٹ منصوبہ کامیاب رہا، جس کے بعد منصوبے کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورٹیکل ویل کی ڈرلنگ مکمل ہونے کے بعد شیل گیس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق سندھ میں تقریباً 7.5 ٹریلین کیوبک فٹ (TCF) شیل گیس کے ذخائر موجود ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ ذخائر مکمل طور پر قابلِ استعمال ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایم ڈی او جی ڈی سی ایل کے مطابق ستمبر کے دوران ہوریزنٹل ویل کی ڈرلنگ کے لیے جدید رگ نصب کر دی گئی ہے۔ اس مرحلے کی تکمیل کے چند ماہ بعد دوسرے مقام پر بھی اسی نوعیت کی ڈرلنگ کا آغاز کیا جائے گا۔ دونوں کنوؤں سے مثبت نتائج ملنے کی صورت میں منصوبے کو کمرشل بنیادوں پر وسیع پیمانے پر آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر منصوبہ بندی کی بدولت آئندہ چند ماہ میں کمپنی کی تیل و گیس کی مجموعی پیداوار ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق او جی ڈی سی ایل کا ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو 160 فیصد برقرار ہے، جو مستقبل میں توانائی کے ذخائر میں اضافے کی مثبت علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سندھ میں شیل گیس کے ذخائر تجارتی بنیادوں پر کامیاب ثابت ہوئے تو پاکستان کو گیس کی درآمدات پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ بچانے اور مقامی توانائی کے وسائل کو فروغ دینے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں