Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ڈکی بھائی کے بعد “سسٹرالوجی” بھی تنقید کی زد میں، کروڑوں کا گھر محض کانٹینٹ نکلا!

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی یوٹیوب پر تیزی سے شہرت حاصل کرنے والی “سسٹرالوجی” بہنیں — اقرا کنول، رابعہ فیصل، فاطمہ فیصل، حرا فیصل اور زینب فیصل اب ایک بڑے تنازعے میں گھر گئی ہیں۔

ڈکی بھائی اور رجب بٹ کے بعد یہ بہنیں بھی متنازعہ شخصیات کی فہرست میں شامل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ معاملہ ہے ان کے حالیہ وائرل ویلاگ کا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ کروڑوں روپے کا گھر خریدنے جا رہی ہیں۔

لیکن حقیقت کچھ اور نکلی۔ ایم ایس جے رئیل اسٹیٹ کے ایجنٹ نے ایک ویڈیو جاری کرکے ان کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ ان کے مطابق:

“یہ فیملی ہمارے دفتر آئی، ہم نے گھر دکھایا، قیمت اور ساری تفصیلات بھی شیئر کیں۔ گھر انہیں پسند بھی آیا لیکن بہانہ بنایا گیا کہ والد صاحب کو جنازے پر جانا ہے۔ ہم سمجھے بعد میں آ جائیں گے، مگر چند دن بعد دیکھا کہ اسی گھر کا پورا ویلاگ یوٹیوب پر اپلوڈ کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ گھر خریدا گیا، نہ کوئی معاہدہ ہوا — بس وقت ضائع کر کے فیک کانٹینٹ بنا لیا گیا۔”

ایجنٹ کا الزام ہے کہ یہ سب کچھ صرف “جھوٹی شہرت” کے لیے کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی خوب ردِعمل دیا۔ کسی نے کہا:

“شرم آنی چاہیے، گھر نہیں لیا تو کم از کم جھوٹ تو نہ بولتے!”

دوسرے نے لکھا: “ان پر کیس ہونا چاہیے، یہ پراپرٹی کے مالک سے اجازت کے بغیر ویڈیو بنا کر اپلوڈ کرنا جرم ہے۔”

جبکہ ایک صارف نے طنز کیا: “یہ پورا خاندان فراڈ ہے۔”

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ آج کل کے یوٹیوبرز صرف وائرل ہونے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں — چاہے وہ جھوٹ ہو یا کسی اور کی محنت کا مذاق۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یوٹیوب کے نام پر ہر چیز جائز ہے؟ یا پھر ایسے “فیک کانٹینٹ کریئیٹرز” کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے؟
مزیدپڑھیں:تدفین سے چند لمحے قبل دکھائی دینے والا خون کا دھبہ جو مقتولہ کے شوہر اور بیٹے کی گرفتاری کی وجہ بنا

یہ بھی پڑھیں