لاہور(سپورٹس ڈیسک)نومبر میں پاکستان کے آسٹریلیا کے دورے کے موقع پر اسٹار بلے باز فخر زمان کو اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ خبر دوسرے ٹیسٹ میں ملتان میں پاکستان کی سیریز میں برابری کی فتح سے قبل بابر اعظم، شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیسٹ اسکواڈ سے ہٹائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
پی سی بی ذرائع کی جانب سے کرکٹ پاکستان کو دی گئی رپورٹ کے مطابق، فخر کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کا تعلق فٹنس کے مسائل سے ہے لیکن اس کی ایک وجہ بابر اعظم کے حق میں ایک ٹوئٹ کر کے این او سی کی خلاف ورزی کرنا بھی بتایا جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی سی بی کے فیصلے پر عوامی سطح پر تنقید نے فخر کو کرکٹ بورڈ کے ساتھ مشکل میں ڈال دیا ہے۔
پی سی بی ذرائع کا کہنا تھا کہ فخر زمان حال ہی میں ویسٹ انڈیز سے ایک طویل سفر سے واپسی کے بعد فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہے، جہاں انہیں 8 منٹ میں 2 کلومیٹر کی دوڑ مکمل کرنے کا ٹاسک سونپا گیا تھا لیکن وہ یہ چیلنج پورا نہیں کرسکے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ‘فخر فی الحال گھٹنوں کے مسائل سے نمٹ رہے ہیں، اگرچہ وہ میچ کھیلنے کے لیے فٹ ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ان کے گھٹنے پر اضافی دباؤ ڈالنے سے وہ سنگین انجری کا شکار بن سکتے ہیں’۔
فخر آخری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران انٹرنیشنل میچ میں کھیلے تھے لیکن اس کے بعد سے وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں سرگرم ہیں۔
بابر اعظم کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے کے بعد فخر نے ایکس پوسٹ میں کہا تھا کہ ‘اگر ہم اپنے پریمیئر بلے باز کو سائیڈ لائن کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو یقیناً پاکستان کا پیدا کردہ اب تک کا بہترین بلے باز ہے، تو یہ پوری ٹیم میں گہرا منفی پیغام بھیج سکتا ہے’۔
ساتھ ہی انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ بھارت سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ کس طرح ویرات کوہلی کے مشکل دور میں بھارتی ٹیم انتظامیہ نے اپنے بیٹمسین کی حمایت کی تھی۔
خیال رہے کہ بابر اعظم کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ سابق پاکستانی کپتان کے ٹیسٹ کرکٹ میں ناقص کارکردگی کے بعد کیا گیا، جہاں 2023 کے آغاز سے اب تک ان کی اوسط صرف 20 رنز سے کچھ زیادہ ہے۔
پی سی بی نے مبینہ طور پر فخر زمان کو ان کی عوامی سطح پر تنقید کے بعد شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا، اس سے قبل فخر نے کیریبین پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے این او سی کی فراہمی میں مایوس کن تاخیر سے متعلق بھی تبصرہ کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلیکشن کمیٹی میں حال ہی میں شامل ہونے والے سابق کرکٹر عاقب جاوید نے ٹیم کے انتخاب کے لیے فٹنس کے معیارات میں نرمی کی ہے لیکن فخر کے حالیہ کنیکشن کیمپ کے دوران ان کے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے حوالے سے واضح ریمارکس بورڈ کے بعض اعلیٰ عہدیداروں (چیئرمین کو چھوڑ کر) کو ناراض کر گئے۔
مزیدپڑھیں:جب سلمان خان کے پاس شرٹ خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے



