اسلام آباد(زبیر کسوری) ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنسز کی تجدید میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کی رپورٹس پر وزیراعظم پاکستان کی طرف سے مداخلت کے بعد وزارت ائی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے اپنے ہی فیصلے کو واپس لے لیا اس سلسلے میں وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق قانونی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے فکسڈ لائن ٹیلی کمیونیکیشن لائسنس کی تجدید سے متعلق اپنا خط واپس لے لیا ۔وائرلیس لوکل لوپ اور ایل ڈی آئی ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنس تجدید کے معاملے پر چند روز پہلے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کمپنیوں سے 50 فیصد لائسنس فیس ایک ساتھ میں وصول کی جائے جبکہ کمپنیوں کے ذمے 42 ارب روپے سے زائد جو واجبات ہیں ان کی وصولی کے بغیر ان کو لائسنس جاری کر دیا جائے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خفیہ رپورٹ پر وزیراعظم پاکستان نے فوری کاروائی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز سیکرٹری ائی ٹی اینڈ ٹیلی کام کو بھی عہدے سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا تھا ۔
وزارت ائی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے ذمہ دار ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت نے 12 جولائی کو ایک خط جاری کیا تھا، جس میں لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (LDI) اور فکسڈ لائن لوکل (FLL) خدمات کے لائسنس کی تجدید کے عمل کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، وزارت قانون و انصاف سے قانونی مشورہ طلب کرنے کے بعد، حکومت نے خط واپس لینے اور عمل پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رابطہ کرنے پر ایک ایل ڈی ائی کمپنی کےسینئر عہدیدار نے بتایا کہ صنعت کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیلی کام سیکٹر کیلئے ایک اہم دھچکا ہے، جو لائسنس کی تجدید کے عمل کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔یہ ایک مایوس کن پیش رفت ہے، اور ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ قانونی مسائل کو جلد اور شفاف طریقے سے حل کیا جائے،”
ایک معروف ٹیلی کام آپریٹر کے ترجمان نے کہا حکومت کے خط کو واپس لینے کے فیصلے نے لائسنس کی تجدید کے عمل کے مستقبل اور ٹیلی کام سیکٹر پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
لائسنس کی میعاد جلد ختم ہونے کے ساتھ، تاخیر کے صنعت کے لیے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے موصول ہونے والے قانونی مشورے کی بنیاد پر مزید کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو حکومت کی جانب سے مسائل کو جلد حل کرنے کی صلاحیت پر شک ہے۔
خوشخبری ،الیکٹرک کاروں کی جلد چارج ہونے اور دیر پا چلنے والی بیٹریاں سستی ہو نے کا امکان

