اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں شدید گرمی کی لہروں کے سلسلے سے لاکھوں بچوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اور انہیں اور دیگر کمزور گروہوں کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے بچانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
گرمی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ سال 2024 اب تک کا گرم ترین سال ہونے جا رہا ہے، جس کی وجہ ماحولیاتی شدت اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسیف) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں رہنے والے 243 ملین سے زائد بچے مستقبل میں گرمی کی لہروں سے متاثر ہو سکتے ہیں جس سے انہیں مختلف بیماریوں اور موت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانوی پاسپورٹ کے نرخوں میں 14 ماہ میں دوسری مرتبہ اضافہ
عالمی ادارے نے مزید کہا کہ خطے کے کئی ممالک پہلے ہی شدید گرمی کا شکار ہیں، درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر کے تاریخی سطح پر پہنچ گیا ہے، آنے والے ہفتوں میں اس رجحان میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یونیسیف کے علاقائی دفتر برائے مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کی ڈائریکٹر ڈیبرا کومانی کے مطابق شدید گرمی بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ڈیبرا کومانی نے مزید کہا کہ اتنی شدید گرمی جسم کے قدرتی کولنگ سسٹم کو کام کرنے سے روکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے موسم گرما اور دیگر موسمی تبدیلیوں میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں اور دیگر کمزور گروہوں کو بچایا جا سکے۔اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ 2050 تک 2 ارب بچوں کو گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


