یروشلم (نیوز ڈیسک)لاطینی امریکہ میں اسرائیلی سرمایہ کاری، زمینوں کی خریداری اور حالیہ جنگلاتی آگ سے متعلق مختلف دعووں نے عالمی سطح پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض بین الاقوامی تجزیاتی حلقوں میں یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے پس منظر میں قدرتی وسائل اور اراضی پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لاطینی امریکہ کو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں تیل، گیس، معدنیات اور قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے بعد اب اسرائیلی سرمایہ کار بھی خطے میں سرگرم ہو رہے ہیں، خاص طور پر ارجنٹائن اور اس سے ملحقہ علاقوں میں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن میں حالیہ برسوں کے دوران غیر ملکی شہریوں کو زمین خریدنے کی اجازت دینے سے متعلق قوانین میں نرمی کی گئی، جس کے بعد مختلف ممالک سے سرمایہ کاروں کی آمد میں اضافہ ہوا۔ انہی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ سرمایہ کار جنگلاتی علاقوں میں زمین خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
چلی اور ارجنٹائن کی سرحدی پٹی کے قریب جنگلات میں لگنے والی آگ کے واقعات کو بھی اسی تناظر میں جوڑا جا رہا ہے، تاہم تاحال ان آتش زدگیوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی حتمی اور سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات میں آگ موسمیاتی تبدیلی، انسانی غفلت اور دیگر عوامل کی وجہ سے بھی لگ سکتی ہے، اس لیے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
دوسری جانب بعض سیاسی مبصرین اس صورتحال کو عالمی طاقتوں کی جیو پولیٹیکل کشمکش سے جوڑ رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ حالیہ برسوں میں چین کا اثر و رسوخ لاطینی امریکہ میں بڑھا ہے اور چند ممالک نے چین کے ساتھ قریبی معاشی و سیاسی تعلقات قائم کیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سرمایہ کاری اور قدرتی وسائل سے متعلق معاملات نہایت حساس ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کے الزامات یا دعووں کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق ناگزیر ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔



