Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

قشم جزیرہ کا زیر زمین میزائل قلعہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

قشم جزیرہ زیر زمین میزائل قلعہ

قشم جزیرہ زیر زمین میزائل قلعہ اب عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یہ جزیرہ جو پہلے سیاحت کے لیے مشہور تھا، اب ایک اہم فوجی مقام بن گیا ہے۔

قشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب واقع ہے، جو دنیا کی اہم تیل گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس کی بڑی جسامت ایران کو سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

ماضی میں یہ جزیرہ اپنی قدرتی خوبصورتی، نمکین غاروں اور مینگروو جنگلات کے لیے جانا جاتا تھا۔ مگر اب یہاں زمین کے نیچے چھپے میزائل نظام توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

قشم جزیرہ زیر زمین میزائل قلعہ میں جدید ہتھیار موجود ہونے کا بتایا جاتا ہے جنہیں پاسداران انقلاب کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ نظام ایران کی بحری حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔

سات مارچ کو بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی فضائی حملے میں ایک پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے سے کئی دیہات میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

اس کے جواب میں ایران نے بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ زیر زمین میزائل قلعہ ایران کو آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے یا بند کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جہاز رانی بھی متاثر ہوئی ہے۔

صرف چند تیل اور گیس بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ مختلف ممالک محفوظ راستے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

قشم جزیرہ جہاں فوجی اہمیت رکھتا ہے، وہیں یہاں ہزاروں افراد آباد ہیں جو اپنی روایات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔

موجودہ حالات میں قشم جزیرہ زیر زمین میزائل قلعہ خطے کی توانائی اور سلامتی کی صورتحال میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں