ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا انتباہ سامنے آیا ہے جب ایران کے اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک اور عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا۔
بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ دنیا کے بڑے گیس ذخائر میں شامل ہے اور قطر کے ساتھ مشترک ہے۔ اس حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹس کے مطابق قطر اور سعودی عرب کی جانب میزائل داغے گئے۔ قطر کے صنعتی شہر میں گیس تنصیبات کو نقصان پہنچا جبکہ سعودی عرب نے ریاض کی جانب آنے والے میزائل اور ڈرون کو تباہ کر دیا۔
ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں امریکہ اور قطر شامل نہیں تھے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جمعرات کی صبح قطر میں گیس تنصیبات کے قریب حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جن سے آگ بھڑک اٹھی۔
ٹرمپ کے مطابق اسرائیل مزید کارروائی نہیں کرے گا جب تک ایران قطر کو نشانہ نہیں بناتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکہ سخت قدم اٹھا سکتا ہے۔
یہ تنازع عالمی توانائی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ جنوبی پارس گیس فیلڈ عالمی گیس فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فروری کے آخر سے جاری اس تنازع میں ایران، اسرائیل اور خلیجی خطے کے کئی مقامات نشانہ بن چکے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مزید فوجی تعیناتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ریاض میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اجلاس میں شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔


