اسرائیل کے قیام میں کردار پر برطانیہ سے معافی کا مطالبہ، برطانیہ کے 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین نے کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو خط لکھ کر حکومت سے تاریخی کردار تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو اپنے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق انہی فیصلوں کے اثرات آج بھی مشرق وسطیٰ میں نظر آتے ہیں۔
خط میں 1917 کے بالفور اعلان کا بھی ذکر کیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ اس اعلان کے نتائج کئی دہائیوں بعد بھی خطے کی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی اعلان کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہوئے جن کے باعث 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد فلسطینی عوام کو بڑے پیمانے پر مشکلات، بے دخلی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ارکان پارلیمنٹ کے مطابق Britain apology for Israel creation اس لیے ضروری ہے تاکہ فلسطینی عوام کی تکالیف کو تسلیم کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تاریخی معاہدے کے اثرات کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔
یاد رہے کہ سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک فلسطین پر حکمرانی کی۔ یہ دور 1948 تک جاری رہا۔
تاہم مختلف برطانوی حکومتیں اب تک اس دور کے حوالے سے باقاعدہ معافی مانگنے یا ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔


