Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

باب المندب بند ہونے کا خدشہ بڑھ گیا، مشرق وسطیٰ کشیدگی سے عالمی تجارت خطرے میں

باب المندب بند ہونے کا خدشہ

باب المندب بند ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک اور اہم سمندری راستے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ممکنہ بند ہونے کی خبروں کے بعد اب ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر یمن کے حوثی اس تنازع میں شامل ہوئے تو باب المندب بند ہونے کا خدشہ حقیقت بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کئی دنوں سے یہ سوال اٹھا رہا تھا کہ آیا حوثی گروپ جنگ میں شامل ہوگا یا نہیں۔

حوثی رہنما عبد الملک الحوثی کے حوالے سے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کی فورسز مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات کا تقاضا ہوا تو کسی بھی وقت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق حوثی اور ایران کے دیگر اتحادی گروہ مکمل الرٹ ہیں۔ اگر جنگ مزید پھیلی تو وہ ایران کا ساتھ دے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر حوثی اس تنازع میں شامل ہوئے تو باب المندب بند ہونے کا خدشہ مزید بڑھ جائے گا۔

باب المندب ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور پھر بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ اسی راستے سے جہاز نہر سویز کے ذریعے یورپ تک پہنچتے ہیں۔

اسی وجہ سے یہ راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے سفر کرنا پڑے گا۔

اس صورت میں ایشیا سے یورپ تک سفر کا دورانیہ تقریباً 20 سے 25 دن کے بجائے 30 سے 40 دن تک ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے جبکہ سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 10 فیصد بھی یہی راستہ استعمال کرتا ہے۔

سن 2023 میں روزانہ تقریباً 88 لاکھ بیرل تیل اسی راستے سے منتقل کیا گیا تھا۔

حوثی گروپ ماضی میں بھی اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ غزہ جنگ کے دوران حوثیوں نے کمرشل جہازوں پر سو سے زائد حملے کیے تھے۔

ان حملوں کے بعد کئی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کا راستہ تبدیل کر دیا تھا۔

حالیہ خدشات کے بعد بڑی شپنگ کمپنیوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ڈنمارک کی شپنگ کمپنی مرسک نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بعض بحری سروسز عارضی طور پر روک دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستے متاثر ہوئے تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

اگر باب المندب بند ہونے کا خدشہ حقیقت میں بدل گیا تو توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور عالمی سپلائی چین کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں