ایران سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی تجاویز مسترد کر دیں اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی خارجہ پالیسی میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق کچھ ممالک نے ثالثی کے ذریعے ایران کو جنگ بندی کی تجاویز دیں۔ ان تجاویز کا مقصد کشیدگی کم کرنا تھا، مگر ایران نے انہیں رد کر دیا۔
ایران سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی تجاویز مسترد کر دیں اور کہا کہ ابھی امن کا وقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کو پہلے شکست تسلیم کرنا ہو گی اور نقصان کا ازالہ کرنا ہو گا۔
ایران میں سپریم لیڈر کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور وہ تمام اہم فیصلے کرتا ہے۔ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اب تک کوئی نئی تصویر جاری نہیں کی گئی۔
کچھ رپورٹس کے مطابق وہ حملوں میں زخمی بھی ہوئے تھے، لیکن اس کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز تاحال بند ہے جس سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اپنے پہلے پیغام میں نئے سپریم لیڈر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دشمنوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بند رکھا جائے گا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں۔
اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملے کر کے امریکی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مجلس خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت گیر قیادت بدستور قائم ہے۔


