امریکی ایف-35 ہنگامی لینڈنگ کی خبر نے مشرق وسطیٰ میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ایک جدید جنگی طیارے کو مبینہ حملے کے بعد فوری طور پر لینڈ کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، یہ اسٹیلتھ طیارہ ایک جنگی مشن کے دوران نقصان کا شکار ہوا اور اسے امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔
US Central Command کے ترجمان نے تصدیق کی کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا جبکہ پائلٹ محفوظ اور مستحکم حالت میں ہے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
مشن کے دوران کیا پیش آیا؟
F-35 Lightning II اپنی جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم اس مشن کے دوران اسے اچانک تکنیکی یا حملے سے متعلق مسئلہ پیش آیا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، اس واقعے میں Iran کے ممکنہ کردار کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ پہلی بار ہوگا کہ جاری کشیدگی میں کسی امریکی طیارے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
امریکی ایف-35 ہنگامی لینڈنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فوجی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں، جبکہ وزیر دفاع Pete Hegseth نے دعویٰ کیا ہے کہ مخالف کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کر دیا گیا ہے۔
تاہم، یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں خطرات اب بھی موجود ہیں اور صورتحال کسی بھی وقت مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔


