ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے منگل کے روز مزید تیز ہو گئے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران نے مختلف علاقوں پر کئی مرحلوں میں میزائل داغے۔ تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سائرن بجتے رہے جبکہ دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
شمالی اسرائیل میں کچھ گھروں کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے ایران کے توانائی نظام پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کا بھی اعلان کیا۔
لیکن ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور یہ خبریں جھوٹی ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکی بیان کو نفسیاتی حربہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا ایران کی حکمت عملی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ان متضاد بیانات کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی۔ تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران اور لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق مصر، پاکستان اور خلیجی ممالک کے ذریعے رابطے جاری ہیں جبکہ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
خطے کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور عالمی برادری اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


