شمالی کوریا کے رہنما Kim Jong Un نے واضح کیا ہے کہ کم جونگ اُن کی جوہری پالیسی کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک اپنے جوہری ہتھیار مزید مضبوط کرے گا اور South Korea کو سب سے بڑا دشمن سمجھے گا۔
انہوں نے یہ بیان Supreme People’s Assembly کے اجلاس میں Pyongyang میں دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جوہری طاقت اب ملکی دفاع کا مستقل حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم جونگ اُن کی جوہری پالیسی قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے بدلے کسی مالی مدد یا سکیورٹی کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔
ان کے مطابق جوہری طاقت نے جنگ کو روکا اور ملک کو ترقی پر توجہ دینے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات مضبوط دفاع کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے United States اور اس کے اتحادیوں پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی لگایا۔
انہوں نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان پچھلی پالیسیوں کے مقابلے میں زیادہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے۔
جنوبی کوریا نے اس بیان کو امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ بات چیت ہی استحکام کا واحد راستہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک نیا پانچ سالہ معاشی منصوبہ بھی پیش کیا جس میں صنعت، بجلی، خوراک اور رہائش کے شعبوں کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ نے اس منصوبے اور نئے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے اور جوہری صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔


