Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

سندھ حکومت کےگوداموں میں وافر مقدارگندم ضائع ہونےکا خدشہ

کراچی (نیوز ڈیسک) سندھ حکومت کے گوداموں میں ایک کروڑ سے زائد بوریوں میں موجود گندم ضائع ہونےکا خدشہ ہے۔صرف کراچی کے گوداموں میں 40 لاکھ بوریاں اسٹاک ہیں، لانڈھی گودام میں 2 لاکھ سے زائد بوریوں میں بھری گندم گل سڑ کر خراب ہوچکی ہے۔

متعلقہ حکام کا بتانا ہےکہ صوبائی حکومت نے یہ گندم 2 سال پہلے 10 ہزار روپےکی 100کلو کے حساب سے امدادی قیمت میں خریدی تھی مگر اوپن مارکیٹ میں قیمت ساڑھے 3 ہزار کم تھی، اس لیے فروخت نہیں کی گئی۔

حکام کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت گرتےگرتے 6 ہزار 400 روپے تک پہنچ گئی جس کے باعث مہنگے داموں خریدی گئی گندم بیچنےکا فیصلہ التوا میں پڑا ہوا ہے۔ اس شش و پنج کا نتیجہ یہ نکلا کہ لانڈھی گودام میں اسٹاک 2 لاکھ ٹن سے زائد گندم روٹیوں میں ڈھلنے اور غریبوں کے پیٹ میں جانے کے بجائےگل سڑ کر برباد ہوگئی ہے۔

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ گندم فلور ملز کو وقت پر فروخت کی جاتی تو سرکاری خزانےکو نسبتاً کم نقصان ہوتا لیکن یہ گندم سڑنے اور خراب ہونے کے لیے چھوڑ دی گئی تو اربوں روپےکے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں