اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومتِ پاکستان نے کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے لین دین کی سخت نگرانی کے لیے ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈر (گورننس اینڈ آپریشنز) ریگولیشنز 2025 کو حتمی شکل دے دی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک ملین روپے سے زائد ہر ورچوئل اثاثہ ٹرانسفر کی لازمی تصدیق کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ تمام وی اے ایس پیز کو بھیجنے اور وصول کرنے والوں کی مکمل تفصیلات جمع اور محفوظ رکھنی ہوں گی۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایف اے ٹی ایف ٹریول رول کی مکمل پابندی لازم قرار دے دی گئی ہے، جس کے تحت شفافیت، ٹریکنگ اور بین الاقوامی مانیٹرنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے وی اے ایس پیز پر سخت ضابطے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ بیرون ملک پارٹیوں کی ڈیو ڈیلیجنس اور اَن ہوسٹڈ والٹس کی باقاعدہ نگرانی بھی ریگولیشنز کا حصہ ہے۔
حکومت نے بلاک چین اینالٹکس کے ذریعے مشکوک ٹرانزیکشنز کی اسکریننگ کو لازمی قرار دے دیا ہے، جبکہ وی اے ایس پیز میں کسی بھی اہم ملکیتی تبدیلی پر اتھارٹی کی پیشگی منظوری شرط ہوگی۔ تمام وی اے ایس پیز کو اپنی ویب سائٹس پر قانونی معلومات کی تفصیل شائع کرنا ہو گی۔
ریگولیشنز کے تحت لائسنس اور آپریشنز کے لیے ادائیگی شدہ سرمایہ کا تیس فیصد اسٹیٹ بینک میں بطور سیکیورٹی جمع کرانا لازم ہوگا۔ سرحد پار آؤٹ سورسنگ کی بھی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق وی اے ایس پیز کو سالانہ بنیاد پر اپ ڈیٹ شدہ سائبر سیکیورٹی پالیسی مرتب کرنا ہو گی، جبکہ آئی ٹی سسٹمز کی مسلسل ٹیسٹنگ اور آڈٹ بھی لازمی کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان ضوابط کا مقصد ورچوئل اثاثہ مارکیٹ کو محفوظ، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔



