Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی وصول کرنے کا اختیار ایف بی آر کو سونپ دیا گیا

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیویز کی وصولی کا نظام تبدیل کرتے ہوئے یہ ذمہ داری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے سپرد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایف بی آر، وزارتِ پیٹرولیم اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بطور ایجنٹ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) اور کلائمٹ سپورٹ لیوی (CSL) وصول کرے گا۔

دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے اس حوالے سے باضابطہ ایس آر او جاری کرتے ہوئے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترامیم نافذ کر دی ہیں۔ نئی تبدیلیوں کے تحت لیویز کی وصولی کا باقاعدہ طریقہ کار بھی متعارف کرا دیا گیا ہے، جس میں ڈومیسٹک سیل انوائس (DSI) کا اجرا شامل ہے۔

ایف بی آر کے مطابق اب پیٹرولیم مصنوعات خریدنے والے تمام رجسٹرڈ پیٹرول پمپس اور خریداروں کو تفصیلی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ ان معلومات میں خریدار کا این ٹی این، شناختی کارڈ نمبر، نام، خریداری کی نوعیت، متعلقہ دستاویزات، ایچ ایس کوڈ، تاریخ، فروخت کی تفصیل، مقدار (لیٹر میں) اور مجموعی مالیت شامل ہوگی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ظاہر کرنا ہوگا کہ متعلقہ فروخت پر کتنی شرح سے پی ڈی ایل اور سی ایس ایل وصول کی گئی۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی خریدار یا ادارے کو پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں چھوٹ یا زیرو ریٹ کی سہولت حاصل ہے تو اس کے لیے متعلقہ ایس آر او اور شیڈول کا حوالہ دینا لازمی ہوگا، جبکہ فروخت کیے گئے آئٹمز کی تفصیل بھی فراہم کرنا ہوگی۔

ایف بی آر حکام کے مطابق اس اقدام کے تحت سیلز ٹیکس ریٹرن فارم STR-7 کے اینکسچر-ایل میں بھی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ لیویز کی رپورٹنگ کو مؤثر بنایا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو فنانس بل 2025 کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا، جو یکم جولائی 2025 سے نافذ ہے اور اس کا مقصد ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل اکٹھے کرنا ہے۔

انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی

حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے ٹیکس کی شرح یا مجموعی بوجھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، تاہم وصولی کے طریقہ کار کو مرکزی اور منظم بنا کر شفافیت اور نگرانی کو بہتر بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں