Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ذٰلِکَ الْکِتَّابُ لَارَیْبَ فِیْہ

حضرت زید بن ثابتؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’نبیﷺ اس دار فانی سے رحلت فرماگئے اور اس وقت تک قرآن مجید کسی چیز میں جمع نہیں کیا گیا تھا‘‘۔الخاطبی کا قول ہے کہ جب سرور عالمﷺ کی وفات کے باعث نزول قرآن کا سلسلہ ختم ہو گیا تو اﷲ تعالیٰ نے اپنے اس سچے وعدہ کو پورا کرنے کیلئے جواس کی حفاظت کے متعلق فرمایا تھا، خلفائے راشدین کے دل یں قرآن کوجمع کرنے کی خواہش پیدا فرمائی۔ پھر اس عظیم الشان کام کا آغاز حضرت عمرؓ کے مشورہ کے مطابق حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھوں سے ہوا۔ کتابت قرآن کا سلسلہ نبیﷺ کے عہد مبارک میں شروع ہو چکا تھاچنانچہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد کہ’’میری باتوں میں سے قرآن کے سوا اور کسی چیز کو نہ لکھو‘‘۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ قرآن رسول اﷲﷺ کے زمانہ میں لکھ لیا گیا تھا، اگرچہ وہ سب ایک جگہ جمع نہ تھا۔
قرآن مجید کو جمع اور مرتب کرنے کا اہم کام حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میںاور ان کے روبرو ہوا۔ اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ ابو بکرؓ کو جنگ یمامہ میں بہت سے صحابہ کرامؓ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اس وقت حضرت عمرؓ آپؓ کے پاس پاس آئے۔ حضرت ابو بکرؓ کہتے ہیں:’’حضرت عمرؓ نے میرے پاس آکر کہا کہ معرکہ یمامۂ میں قرآن پاک کے بہت سے حفاظ و قاری شہید ہوئے اور مجھے ڈر ہے کہ آئندہ معرکوں میں بھی وہ شہید ہوتے جائیں گے اور اس طرح مبادا بہت سا قرآن ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔ لہٰذا میری رائے کہ تم قرآن کے جمع کا حکم دو۔ میں نے عمرؓ کو جواب دیا کہ جس کام کو رسول اﷲﷺ نے نہیں کیا میں اسے کس طرح کروں؟ حضرت عمرؓ نے کہا خدا کی قسم یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں بہتر ہے۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں: حضرت عمرؓ بار بار مجھ سے کہتے رہے، یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا اور میں نے اس بارے میں وہی رائے قائم کر لی جو حضرت عمرؓ نے قائم کی تھی۔‘‘
زید بن ثابتؓ کہتے ہیں:’’ حضرت ابو بکرؓ نے مجھ سے کہا کہ تم ایک سمجھ دار نوجوان ہو اور ہم تم پر بداعتمادی نہیں کر سکتے اور تم رسول اﷲﷺ کے کاتب وحی بھی تھے۔ اس لئے اب قرآن کی تفتیش اور تحقیق کر کے اسے جمع کرو۔‘‘
زید بن ثابتؓ کہتے ہیں: ’’واﷲ مجھے ایک پہاڑ اس جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینے کا حکم دیتے تو یہ بات مجھ پر اتنی گراں نہ ہوتی جس قدرقرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر شاق گزرا اور میں نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے کہا: آپ دونوں وہ کام کس طرح کرتے ہیں جسے رسول اﷲﷺ نے نہیں کیا؟۔ ابو بکرؓ نے جواب دیا: واﷲ یہ بات بہتر ہے اور پھر وہ برابر مجھ سے اس بارے میں بار بار کہتے رہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا دل بھی اسی بات کے لئے کھول دیا جس بات کے واسطے ابو بکرؓ و عمرؓ کا دل کھولا تھا، پھر میں نے قرآن کی تلاش اور جستجو شروع کی اور اسے کھجور کی شاخوں، سفید پتھروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کر دیا۔‘‘
زید بن ثابتؓ قرآن کو محض لکھا ہوا پانے ہی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی شہادت ان لوگوں سے بھی بہم پہنچا لیتے جنہوں نے اس سب کر یاد کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ خودبھی حافظ قرآن تھے۔ غرضیکہ قرآن مکتوب کے وجودپانے اور خود حافظ قرآن ہونے کے باوجود حفظ وکتابت کی شہادتوں کو بھی بہم پہنچا کر اسے جمع فرماتے تھے تاکہ قرآن اسی اصل سے لکھا جائے جورسول اﷲﷺ کے روبرو لکھا گیا اور آنحضرتﷺ پر پیش ہو چکا تھا۔ چنانچہ وہ نقل شدہ صحیفے ابو بکرؓ کے پاس رہے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کی محافظت کی اور حضرت عمرؓ کا انتقال ہوجانے کے بعد وہ صحائف ام المؤمنین حضرت حفصہؓ بنت عمرؓ کے پاس محفوظ رہے۔
قارئین محترم! مفسرین اور علمائے کرام نے قرآن مجید کے چھ حقوق بیان کئے ہیں، ذیل میں ان کا مختصر ذکر کیا جارہا ہے۔ تاکہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لے سکیں کہ ہم کون ساحق ادا کررہے ہیں اور کون سے حق کی ادائیگی میں ہم سے کوتاہی ہو رہی ہے۔
اس کا سب سے پہلا حق انسانوں پر یہ ہے کہ وہ اس پر دل سے ایمان لائیں، زبان سے اس کے سرچشمہ ہدایت ہونے اور کتاب الہٰی ہونے کا اقرار کریں اور اس زبانی اقرار کی دل سے تصدیق کریں۔
اﷲ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کے اس حق کو ان الفاظ میںبیان فرمایا ہے:’’ میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پرایمان لے آؤ‘‘ اس ایمان کا اہم تقاضا یہ ہے کہ قرآن مجید کے اﷲتعالیٰ کی طرف سے نازل کئے جانے اور ذریعہ ہدایت ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کیا جائے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں