Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

101 برس کی خاتون جنھیں ’سسٹم کی خرابی‘ کے باعث بچہ بن کر فضائی سفر کرنا پڑتا ہے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک )ریزرویشن سسٹم میں خرابی کی وجہ سے ایک ایئر لائن نے بار بار ایک 101 برس کی خاتون کو بچہ سمجھنے کی غلطی کی ہے۔

بظاہر امریکن ایئرلائنز کے نظام اس بات کا حساب نہیں لگا سکتے کہ پیٹریشیا، جو اپنا آخری نام شیئر نہیں کرنا چاہتی تھیں، سنہ 2022 میں نہیں بلکہ سنہ 1922 میں پیدا ہوئی تھیں۔

برطانوی خبررساں ادارے نے اس غلطی کا مشاہدہ کیا ہے جس پر پیٹریشیا اور طیارے کا عملہ ہر بار ہنس پڑتا ہے۔

پیٹریشیا نے کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز تھا کہ وہ سوچتے تھے کہ میں ایک لڑکی ہوں جبکہ حقیقیت میں تو میں ایک بوڑھی عورت ہوں۔‘

یہ اس وقت ہوا جب پیٹریشیا شکاگو اور مارکویٹ کے درمیان پرواز پر سفر کر رہی تھی۔ اس پرواز پر یہ صحافی بھی سفر پر تھے۔
مزیدپڑھیں :لڑکے اور لڑکی کو ’اسپائیڈر مین‘ بن کر کرتب دکھانا مہنگا پڑ گیا
پیٹریشیا اپنی بیٹی کرس کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی نے ٹکٹ آن لائن بُک کروایا اور ہوائی اڈے کا کمپیوٹر اس نتیجے پر پہنچا کہ میری تاریخ پیدائش سنہ 2022 کی ہے نہ کہ 1922 کی۔‘

’گذشتہ سال بھی ایسا ہی ہوا تھا اور ایئرلائن والے مجھے ایک لڑکا سمجھ بیٹھے تھے۔‘

پیٹریشیا کی سیٹ ایک بالغ مسافر کے طور پر بُک تھی۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہوائی اڈے کا کمپیوٹر سسٹم ابھی تک تاریخ پیدائش کو درست بتانے سے قاصر ہے۔ اس لیے اس کے بجائے اس نے ایک شخص کو 100 سال چھوٹا ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں