تاجِ خار
جنوبی ایشیاء کاسیاسی منظرنامہ دنیا کے ہنگامہ خیز ترین خطّوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں عوام کے ووٹ کی طاقت کا مقابلہ اکثر عدالتی طاقت سے ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات وہ اس پر سبقت لے جاتی ہے۔ دنیا کے
جنوبی ایشیاء کاسیاسی منظرنامہ دنیا کے ہنگامہ خیز ترین خطّوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں عوام کے ووٹ کی طاقت کا مقابلہ اکثر عدالتی طاقت سے ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات وہ اس پر سبقت لے جاتی ہے۔ دنیا کے
کسی بھی گھرانے میں نظم و ضبط تبھی قائم رہتا ہے جب کوئی بزرگ یا سرپرست اس کے معاملات سنبھالتا ہے، اور اہلِ خانہ کی رہنمائی دانائی، ضبطِ نفس اور اختیار کے ساتھ کرتا ہے۔ لیکن اگر ہر فرد خود
مدتوں سے صدارتی استثنیٰ کا تصور دنیا بھر کے آئینی مباحث میں اہم مقام رکھتا آیا ہے۔ اگرچہ مختلف ممالک میں اس کی صورتیں مختلف ہیں، مگر اس کی بنیادی منطق ایک ہی رہی ہے‘ سربراہِ ریاست کو روزمرہ سیاسی
مجھے آج بھی 1982ء کاہاکی ورلڈ کپ فخر اور خوشگوار یادوں کے ساتھ یاد ہے۔ اس وقت پاکستان کی ہاکی ٹیم بہترین نظم و ضبط، مہارت اور اجتماعی ہم آہنگی کی علامت تھی۔ میدان میں منطورالحسن سینئر،قاضی محب الرحمن، رشیدالحسن،
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمانی اور سفارتی سرگرمیوں نے غیر معمولی حرارت اور سرگرمی کا نیا دور اختیار کر لیا ہے۔ یہ شہر، جو اپنی پُرسکون خوبصورتی اور متوازن سفارتکاری کے باعث ہمیشہ سے پہچانا جاتا ہے، ایک
تاریخ میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو کتابوں اور سرکاری دستاویزات کے اوراق میں خاموشی سے دفن رہتی ہیں۔ یہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، یہاں تک کہ کوئی محقق ان کے انکشاف کا ذریعہ بنے۔
تاریخ کا ایک انوکھا انداز ہے‘یہ صدیوں کے فاصلے مٹا کر ان شخصیات کو ایک لڑی میں جوڑ دیتی ہے جن کے عزم، حوصلے اور ایمان نے وقت کی سرحدوں کو عبور کیا۔ آٹھ سو برس کے فاصلے پر، دو
اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت کے نشیب و فراز اور مادی مفادات کی کشش کے زیرِ اثر، انسان کی یادداشت اکثر سہولت کے تابع ہو جاتی ہے۔ وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے ماضی کے اقوال و
حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:’’اگر تم کسی کے ساتھ بھلائی کرو تو اس کے شر سے بچو۔‘‘ یہ ابدی دانش صدیوں کا فاصلہ طے کرتی ہوئی آج پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں زندہ مثال بن چکی ہے۔ پاکستان نے
کہا جاتا تھا کہ برطانوی سلطنت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا‘ یہ جملہ فخر کا بھی تھا اور طنز کا بھی۔ کیونکہ جس طرح اس سلطنت کی حدود براعظموں تک پھیلی ہوئی تھیں، اسی طرح اس کے سائے بھی