اسلام آباد: سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر سرکاری اسٹریمنگ اور بیٹنگ پلیٹ فارمز سے محتاط رہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارمز ذاتی معلومات اور رقم کے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہوا اور ٹورنامنٹ کے آغاز کے ساتھ ہی شائقین کے جوش و خروش سے فائدہ اٹھانے والے آن لائن فراڈیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کیسپرسکی کے مطابق کم از کم 336 جعلی ڈومینز کی نشاندہی کی گئی ہے جو ورلڈ کپ کی سرکاری ویب سائٹس کی نقل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سائبر جرائم پیشہ افراد میچ اسٹریمنگ اور اسپورٹس بیٹنگ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
دنیا بھر میں لاکھوں شائقین ٹی وی اور دیگر ڈیوائسز کے ذریعے براہ راست میچز دیکھ رہے ہیں، جبکہ فراڈیوں نے اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی ویب سائٹس بنانا شروع کر دی ہیں جو ورلڈ کپ کی آن لائن اسٹریمنگ فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
ان جعلی ویب سائٹس پر صارفین کو مفت میچ دکھانے کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ جب صارف “اب دیکھیں” کے آپشن پر کلک کرتا ہے تو اسے رجسٹریشن کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد “تاحیات ٹورنامنٹ رسائی” کے نام پر کرپٹو کرنسی فیس ادا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس فراڈ میں صارفین کا رجسٹریشن ڈیٹا اور کرپٹو کرنسی رقم دونوں ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
فٹبال شائقین کو نشانہ بنانے والا ایک اور فراڈ جعلی بیٹنگ اور میچ پیشگوئی کرنے والے پلیٹ فارمز کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ایک مثال میں ایک ہسپانوی زبان کی ویب سائٹ صارفین سے اکاؤنٹ بنانے کے بہانے نام، ای میل ایڈریس، فون نمبر اور دیگر ذاتی معلومات طلب کر رہی تھی۔
ایسے فراڈ سے صارفین کے لاگ اِن ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر جب لوگ ایک ہی پاس ورڈ کئی سروسز کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ مالی نقصان کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔
کیسپرسکی کی سینئر ویب کانٹینٹ اینالسٹ اولگا آلٹوخوا نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی فراڈیوں نے ان طریقوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جن کے ذریعے شائقین آن لائن ایونٹ سے جڑتے ہیں۔ آج میچ دیکھنے کے لیے صرف انٹرنیٹ کنکشن اور ایک ڈیوائس کافی ہے، جس کی وجہ سے جعلی اسٹریمنگ اور بیٹنگ ویب سائٹس کے ذریعے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی معلومات اور مالی وسائل کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف سرکاری نشریاتی پلیٹ فارمز استعمال کریں۔
ایک اور طریقہ جس سے صارفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ جعلی ای میلز ہیں، جن میں حملہ آور لوگوں کو رقم بھیجنے یا فشنگ لنکس پر کلک کرنے کے لیے اکساتے ہیں۔ ایسی ای میلز میں پرکشش عنوانات اور قائل کرنے والی زبان استعمال کی جاتی ہے تاکہ صارف جلدی فیصلہ کرے۔
ایک کیس میں شائقین کو فٹبال تجزیاتی سروسز اور میچ جیتنے کی پیشگوئیوں کے نام پر ای میلز بھیجی گئیں۔ ان پیغامات میں فوری کارروائی کا دباؤ ڈالا گیا، جو ممکنہ فراڈ ای میل کی عام نشانیوں میں شامل ہے۔ صارفین سے ایسی سروسز تک رسائی کے لیے 200 آسٹریلین ڈالر فیس طلب کی گئی، جو بعد میں ناقابل واپسی مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
کیسپرسکی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ذاتی معلومات درج کرنے سے پہلے ویب سائٹس کی تصدیق ضرور کریں۔ ویب ایڈریس کے فارمیٹ اور اداروں کے ناموں کے ہجے چیک کریں۔ ہمیشہ سرکاری اور معتبر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا انتخاب کریں تاکہ ذاتی معلومات چوری اور غلط استعمال سے محفوظ رہیں۔
کمپنی نے صارفین کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ وہ قابل اعتماد سیکیورٹی کیسپرسکی پریمیم استعمال کریں، جو نقصان دہ فائلز کی نشاندہی اور فشنگ لنکس کو بلاک کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔


