کائنات کی تخلیق میں انسان کو مرکزیت حاصل ہے۔ اللہ تعالی نے جہاں اربوں کہکشائیں، چاند، سورج اور فرشتوں جیسی نورانی مخلوق پیدا کی، وہاں مٹی کے ایک پتلے کو تمام مخلوقات پر فضیلت دے کر ’’اشرف المخلوقات‘‘ کا رتبہ عطا کیا۔ اس فضیلت کی اصل وجہ وہ روحِ انسانی ہے جسے خالقِ کائنات نے اپنی طرف منسوب کیا اور اسے ایک تاجِ ربانی (خدائی اعزاز)بنا کر انسان کے سر پر سجا دیا۔ ’’پھر جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘ (القرآن)
روحِ انسانی کی حقیقت اور اس کا منبع روح کوئی مادی چیز نہیں جسے آنکھوں سے دیکھا جا سکے یا ترازو میں تولا جا سکے۔ یہ امرِ ربی (اللہ کا حکم) اور ایک الٰہی نور ہے جو انسان کے مادی جسم کو زندگی، شعور، اور اخلاقی حس عطا کرتا ہے۔ جسم کا رشتہ، مٹی سے ہے، اس لیے اس کی تمام تر خواہشات (بھوک، پیاس، آرام)کا تعلق زمین سے ہے۔ روح کا رشتہ: عالمِ بالا (آسمان)سے ہے، اس لئے اس کی تسکین ذکرِ الٰہی، محبت، سچائی اور خوبصورتی کی تلاش میں ہے۔
تاجِ ربانی، انسان کا حقیقی مقامجب روحِ انسانی کو ’’تاجِ ربانی‘‘کہا جاتا ہے، تو اس سے مراد وہ اعزازات اور ذمہ داریاں ہیں جو اللہ نے انسان کو سونپیں۔
الف،مسجودِ ملائک ہوناجب روح پھونکی گئی تو فرشتوں جیسی معصوم مخلوق کو حکم ہوا کہ وہ انسان کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں۔ یہ سجدہ انسان کے مادی وجود کو نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود ’’روحِ ربانی‘‘اور علم کی اس صلاحیت کو تھا جو اسے دی گئی تھی۔
ب، نیابتِ الٰہی (خلافت ارضی)کائنات کی کسی مخلوق میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اللہ کی امانت (اختیار اور شعور)کا بوجھ اٹھا سکے۔ انسان نے اپنی اس روحانی صلاحیت کی بنا پر اس بوجھ کو اٹھایا اور زمین پر اللہ کا خلیفہ (نائب)مقرر ہوا۔روح اور جسم کی کشمکش انسان کے اندر ہر وقت ایک جنگ جاری رہتی ہے: جسمانی تقاضے: انسان کو نیچے (پستی، حیوانیت اور مادی فائدے)کی طرف کھینچتے ہیں۔
روحانی تقاضے، انسان کو اوپر (پاکی، سچائی، اور عرفانِ الٰہی)کی طرف پرواز کرنے پر ابھارتے ہیں۔ جب انسان اپنی روح کو پاک رکھتا ہے اور اسے تاجِ ربانی کی حیثیت سے برقرار رکھتا ہے، تو وہ فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ لیکن جب وہ روح کو فراموش کر کے صرف مادی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، تو وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔موجودہ دور میں روح کی پکارآج کا انسان مادی طور پر بہت ترقی کر چکا ہے۔ ہمارے پاس بہترین گاڑیاں، عالی شان مکانات اور جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود انسان بے چین اور ذہنی دبا کا شکار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جسم کو تو ہر آسائش دے دی، لیکن روح کو بھوکا رکھ دیا۔روح کی غذا نہ تو مال و دولت ہے اور نہ ہی دنیاوی شہرت۔ روح کی غذا اپنے اصل (خالق)سے جڑنا، انسانیت کی خدمت کرنا اور اخلاقی اقدار کو اپنانا ہے۔روح کی بے چینی اور مولانا رومی کی بانسری (حکایت نے) مقالے کے آخر میں اگر ہم روح کی اس بے چینی کی سب سے خوبصورت ترجمانی دیکھنا چاہیں، تو ہمیں مولانا جلال الدین رومی کی بارگاہ میں چلنا ہوگا جہاں وہ روح کو ایک’’بانسری‘‘ نے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ رومی اپنی مثنوی کا آغاز ہی اس دردناک پکار سے کرتے ہیں۔
بشنو از نے چوں حکایت مے کند
وز جدائیہا شکایت مے کند
اس بانسری کو سنو کہ یہ کیا کہانی سناتی ہے، اور اپنے اصل (بانسستان)سے بچھڑنے کا کس طرح شکوہ کرتی ہے۔رومی کے نزدیک، بانسری کی آواز میں جو سوز اور درد ہے، وہ دراصل اس انسان کی روح کا سوز ہے جسے اس کے اصل وطن (عالمِ ارواح)سے جدا کر کے اس مادی جسم کے قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ انسان کے سر پر موجود ’’تاجِ ربانی‘‘اسے بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ اس عارضی دنیا کا نہیں بلکہ الٰہی حرم کا باسی ہے اور جب تک وہ اپنے اصل (خالق)کی محبت میں گم نہیں ہو جاتا، اس کی یہ بے چینی ختم نہیں ہو سکتی۔خلاصہ کلام’’روحِ انسانی، تاجِ ربانی‘‘محض ایک خوبصورت جملہ نہیں بلکہ انسان کی اصل حقیقت کا آئینہ ہے۔ انسان صرف گوشت اور پوست کے لوتھڑے کا نام نہیں، بلکہ وہ اس الٰہی امانت کا امین ہے جو اسے کائنات کی ہر شے سے ممتاز کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس تاج کی حرمت کو پہچانیں، اپنے اندر کی اس بانسری کے سوز کو سمجھیں اور اپنے اخلاق و کردار کو اس معیار پر لائیں جس کے لئے ہمیں زمین پر بھیجا گیا ہے۔بقولِ علامہ اقبالؒ
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!