نوآبادیاتی نظام اور مظلوم عوام کا مستقبل
(گزشتہ سے پیوستہ) سائنس، ٹیکنالوجی، اور خاص طور پر عسکری قوت کے محاذ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ہم یہ بات عام طور پر کہتے ہیں جو بالکل درست ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی، اور عسکری قوت میں مغربی
(گزشتہ سے پیوستہ) سائنس، ٹیکنالوجی، اور خاص طور پر عسکری قوت کے محاذ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ہم یہ بات عام طور پر کہتے ہیں جو بالکل درست ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی، اور عسکری قوت میں مغربی
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جب بہت سے مسلم ممالک یورپی استعمار کے شکنجے سے آزاد ہوئے، ایشیا اور افریقہ کے ممالک پر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور پرتگال وغیرہ کی گرفت ڈھیلی پڑنا شروع ہوئی تو ہم اس
(گزشتہ سے پیوستہ) دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں میں طاقت کا توازن نہیں ہے، جن پانچ ممالک کے پاس مستقل طور پر ویٹو پاور ہے ان میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ مہاتیر محمد نے کہا تھا
(گزشتہ سے پیوستہ) نیلا بٹ سے جو جہاد شروع ہوا تھا جس میں سردار عبد القیوم خان تھے، سردار ابراہیم تھے، مولانا غلام حیدر صاحب تھے، سردار سکندر حیات تھے، سردار اسلم تھے، اور بڑے بڑے لوگ تھے۔ کیا یہ
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپؐ نے تئیس سال کی نبوی زندگی میں ایک ریاست اور اس کا ایک نظام دیا۔ اس ریاست کو ریاستِ مدینہ کہتے ہیں اور جو نظامِ زندگی دیا تھا اسے
گفٹ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اسلامک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کا شکرگزار ہوں کہ ’’حجِ بیت اللہ‘‘ کے حوالہ سے منعقدہ اس سیمینار میں اربابِ علم و دانش، اساتذہ، طلبہ اور طالبات کے سامنے اس اہم ترین دینی فریضہ کے بارے میں
الحسنات میڈیا گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ یومِ تکبیر کے اہم موقع پر مجھے اپنے سامعین اور ناظرین سے کچھ باتیں کرنے کا موقع فراہم کیا۔ الحسنات میڈیا کے ساتھ تعلق تو بہت پرانا ہے، حافظ عمر فاروق صاحب
(گزشتہ سے پیوستہ) اجتہاد کے لیے علمی ماخذ یعنی قرآن وسنت اور ان سے متعلقہ علوم کی مہارت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن حالات اور محل پر اس کا اطلاق کیا جانا ہے، اس سے بھی
(گزشتہ سے پیوستہ) مثال کے طور پر ان علماء کرام نے متفقہ طور پر طے کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں حکومت کی تشکیل عوام کے ووٹوں سے ہوگی اور منتخب قیادت ہی ملک پر حکمرانی کی اہل ہوگی۔ ہمارے
(گزشتہ سے پیوستہ) البتہ یہ فرق ضرور سامنے آیا کہ ابتدائی صدیوں میں اجتہاد کا عمل ان فقہی مکاتب فکر کی طرز کے متعین اصول وضوابط کے دائروں کا پابند نہیں تھا اور آزادانہ اجتہاد کے ذریعہ مجتہدین اپنے اپنے