آزادئ مذہب اور آزادئ رائے کا مغربی فلسفہ
(گزشتہ سے پیو ستہ) مغرب نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ توہین نہیں ہے، یہ رائے کا اظہار ہے، آپ اس کی رائے قبول نہ کریں۔ اس پر بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ سلمان رشدی پر بعض
(گزشتہ سے پیو ستہ) مغرب نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ توہین نہیں ہے، یہ رائے کا اظہار ہے، آپ اس کی رائے قبول نہ کریں۔ اس پر بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ سلمان رشدی پر بعض
مذہبی آزادی اور مذہبی مساوات کے حوالے سے ایک بات تو یہ کی تھی کہ وہ مذہب کو معاشرے سے لاتعلق قرار دیتے ہیں۔ بنیادی اور اصولی جھگڑا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مذہب کا معاملہ شخصی ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ گھروں میں نماز پڑھنے سے، قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے روحانی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ ہم اس بات کا شکوہ تو
بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو کہتے ہیں جو اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس فلسطین سے مصر آ گئے تھے اور حضرت یوسف علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی حکومت و بادشاہت کا سلسلہ
2003 میں اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا تھا کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت
(گزشتہ سے پیوستہ) اس وقت صدام حسین بش کا حلیف اور دوست تھا، اس لیے اسے مثبت جواب موصول ہوا۔ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ اسے عراق کی جانب سے اپنا اسلحہ تباہ کرنے کی تجویز پسند آئی ہے، تاہم
(گزشتہ سے پیوستہ) ایل سلواڈور کی فوج کو دی جانے والی تربیت کے نتائج عیسائی پادریوں کے ایک جریدے ’’امریکہ‘‘ میں ڈینپل سینتیاگو نے وضاحت سے بیان کیے ہیں۔انہوں نے کیتھولک پادری کی حیثیت سے ایل سلواڈور میں کام کیا
نوم چومسکی ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو ۱۹۱۳ء میں روس سے ترکِ وطن کر کے امریکہ میں جا بسا تھا۔ ان کی ولادت ۱۹۲۸ء میں امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں ہوئی۔ انہوں نے تعلیم حاصل
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مذہبی حقوق کے حوالے سے ہم کہیں فرق کرتے ہیں تو اعتراض ہوتا ہے کہ آپ ملک میں رہنے والی کچھ آبادی کے مذہبی حقوق کو اپنے حقوق سے مختلف شمار کرتے ہیں جس سے
(گزشتہ سے پیوستہ) محمد ایوب خان مرحوم لکھتے ہیں کہ ’’دنیا آج مساوات کے لیے لڑ رہی ہے۔ افراد کے درمیان مساوات اور اقوام کے درمیان مساوات، خواہ وہ بڑی ہوں یا چھوٹی، اس لیے ضروری ہے کہ تمام دنیا