سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی آپسی نااتفاقیوں اورچپقلش نے آج پاکستان میں بعض ایسے بدنسل پیدا کر دئیے ہیں کہ جو فوج کے شہیدوں کے مقدس لہو کا مذاق اڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ،کہنے اور لکھنے کی حد تک ’’پاکستان‘‘سے پہلے ’’اسلامی جمہوریہ ‘‘کے الفاظ بھی موجود ہیں ،لیکن شہدائے وطن کا سوشل میڈیا کے ذریعے مذاق اڑانے والے ’’بد نسلے‘‘ اسلامی احکامات سے ناواقفیت اور دوری کی وجہ سے شائد دین اسلام میں شہداء کے مقام ومنزلت اور فضیلت سے آگاہ ہی نہیں ہیں،نہ ہی دجالی میڈیا کو آج تک جرات ہوئی کہ وہ عوام کو شہادت اور شہید کے مقام ومرتبہ کے حوالے سے اسلام کے آفاقی احکامات کے حوالے سے آگاہی مہیا کرے۔
پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشوں سے بچانا ہو یا خونریز جنگوں اور دہشت گردوں کا سامنا کرنا ہو، ملک میں زلزلہ آئے، سیلاب آئیں یا دیگر آفات…ہمارے ملک کی بہادر مسلح افواج نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دے کر ہمیشہ ان کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا ، ملک اور قوم کے دفاع کے لئے پیش کی جانے والی ان قربانیوں پر پاکستانی عوام اپنے عظیم شہداء کو دل کی گہرائیوں سے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن کیا کیا جائے اس زبان دراز بدنسل کا کہ جو سوشل میڈیا پر پاک فوج کے شہدا کا مذاق اڑانے کو ’’آزادی‘‘ سے تعبیر کرتی ہے، بے لگام سوشل میڈیا پر مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں کے واقعات بھی تسلسل سے ہو رہے ہیں، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے شہداء کے خلاف جاری اس مہم کو ملک دشمنی قرار دیا ہے، اور اس کی ذمہ داری ایک سیاسی جماعت پر ڈالی ہے، جو ان کے بقول بھارت کے ساتھ مل کر پاک فوج کا مذاق اڑا رہی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی رنجشوں کی سیاسی بحث میں پاک فوج اور شہداء کو شامل کرنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے‘ جو جماعت ایسا کررہی ہے اس نے آئی ایم ایف اور امریکی کانگریس کو بھی پاکستان کے خلاف خط لکھے ہیں کہ اسے قرضہ نہ دیا جائے… عطااللہ تارڑ نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کا مذاق اڑانے اورپاکستان مخالف مہم چلانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں‘ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے والے یہ حرکت پاکستان میں آکر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے سوشل میڈیا اکائونٹس بیرون ملک سے آپریٹ ہورہے ہیں جن کے پیروکار ملک کے اندر بھی موجود ہیں‘ انہوں نے تجویز پیش کی کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میثاق پر عمل کرنا چاہیے۔ ضابطہ اخلاق بنانا چاہیے، دو وفاقی وزرا ء نے تمام سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا کے حوالے سے ضابطہ اخلاق بنانے کا جو مشورہ دیا ،وہ نہایت خوش آئند ہے۔
مگر جان کی امان ملے، تو یہ خاکسار وزیراعظم ہوں،چیف جسٹس ہوں یا آرمی چیف ، سب کی خدمت میں یہ گزارش پیش کرنا اپنا ایمانی اور صحافتی فریضہ سمجھتا ہے کہ سوشل میڈیا وہ ’’کچرا کنڈی‘‘ ہے کہ جہاں سے اٹھنے والی فکری ، نظریاتی سڑاند،اور ملحدانہ تعفن نے پاکستان کی ایک پوری نسل کے اخلاق و کردار ،سوچ ونظریات کو تباہ وبرباد کرنے کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کو بھی تار تار کر ڈالا ہے،بے لگام سوشل میڈیا کے ذریعے ’’مقدس ترین ہستیوں‘‘کے خلاف گستاخانہ مواد شیئر کرنے والے دجالی گماشتوں کو اگر ریاستی ادارے بر وقت قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر تے،اور عدالتیں ثبوتوں اور شواہد کی روشنی میں گرفتار دجالی گماشتوں کو نمونہ عبرت بنا دیتیںتوشہداء کرام کا مذاق اڑانے والی ’’بدنسل‘‘ یہ کام کرنے سے پہلے ضرور سو بار سوچتی،اگر کسی کو اسٹیبلشمنٹ یا کسی فوجی جرنیل سے کوئی اختلاف ہے تو اسے چاہیے کہ وہ سو بار رکھے،لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر شہدا ء کرام کا مذاق اڑانا،نہ صرف اخلاقی و قومی روایات بلکہ بعض حوالوں سے اسلامی احکامات کے بھی خلاف ہے،’’شہداء‘‘تو زندہ قوم کے ہیرو اور محسن ہوا کرتے ہیں،بڑے دکھ کے ساتھ میں یہ بات لکھنے پر مجبور ہوں کہ اگر ’’ریاست‘‘ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی ،بے غیرتی وفحاشی ،اور مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں کے واقعات کا بر وقت نوٹس لے لیتی،تو ممکن ہے کہ آج ریاست اور عوام کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے کہ ’’بد نسلے ‘‘ ہما رے ہیروز فوجی شہدا پر سوشل میڈیا کے ذریعے زبان درازیاں کر رہے ہیں،شہباز شریف حکومت ہو، طاقتور اسٹیبلشمنٹ ہو،یا انصاف دینے کی دعویدار عدلیہ،وہ یہ بات یاد رکھے کہ گستاخ آقاومولی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوں،گستاخ صحابہ و اہلبیتؓ اطہار کے ہوں یا گستاخ شہداء کرام کے،ان گستاخوں کو سر عام سزائیں دے کر اگر نمو نہ عبرت بنا دیا جائے تو اس سے پوری قوم کا بھلا ہو گا۔
با خبر ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں میں ملوث دجالی فتنے سے وابستہ 15گستاخوں کو ملک کی عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں،حکومت کو چاہیے کہ وہ ان سزائوں پر عملدرآمد فوری اور یقینی بنانے کی کوشش کرے، اگر سوشل میڈیا کے ان گستاخوں کی عدالتی سزائوں پر عمل درآمد یقینی ہو گیا تو شہداء کی گستاخیوں کا سلسلہ بھی لازم رک جا ئے گا۔ ان شاء اللہ