Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

بیرون ملک مظاہروں کی شرمناک روایت

دھاندلی راگ الاپنے والے بے سرے سیاسی قوال تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزام تراشیوں اور گالم گلوچ کے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اب یہ بدمست غول بیرون ملک اپنی زہریلی ذہنیت آشکار کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کا ا یک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ کسی طرح پاکستان معاشی دلدل میں دھنستا چلا جائے اور انصافی لشکر اس بحران کو بنیاد بنا کر اپنی سیاست چمکا سکے۔ جب جیل میں قید لیڈر کی ہدایت پہ اندھی پیروی کرنے والی نام نہاد قیادت نے آئی ایم ایف کو قرض دینے کے بجائے انتخابی دھاندلی کا نوٹس لینے کا انوکھا مطالبہ بذریعہ خط کیا تو اسی وقت باشعور لوگوں کا ماتھا ٹھنکا تھا۔ اب آئی ایم ایف ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کی آڑ میں ریاست کی جڑیں کھو کھلی کرنے کی کاوش نے انصافی لشکر کی رہی سہی ساکھ بھی برباد کر دی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ احتجاج جمہوری روایت ہے ۔ ملکی آئین بھی پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ لیکن احتجاج کی آڑ میں دشنام طرازی اور کردار کشی کا کیا جواز ہے ؟ بلاثبوت الزامات عائد کرکے اپنے مخالفین کی کردارکشی کی اجازت آئین کی کون سی شق دیتی ہے ؟ مقام افسوس کہ بدزبانی اور الزام تراشی کے اس حمام میں لگ بھگ سب جماعتیں الف ننگی کھڑی ہیں لیکن جس اخلاقی پستگی کا مظاہرہ انصافی لشکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ کیا ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ نہ کسی کی عمر دیکھی نہ کسی کی جنس کا لحاظ کیا ۔ بلاامتیاز ہر مخالف مردوزن کے خلاف بیہودہ گالیوں اور جھوٹے الزامات کی گولہ باری شروع کردی۔ افسوسناک حیرت اس بات پر ہے کہ یہ شرمناک وارداتیں وہ گروہ انجام دے رہا ہے جس کا دعویٰ رہا ہے کہ ملک کے تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوانوں کی اکثریت اس کی حامی ہے۔ سنجیدہ مزاج افراد تشویش کا شکار ہیں کہ ہمارا معاشرہ یکلخت کس سمت چل نکلا ہے۔ کیا تعلیم یافتہ لوگ گالم گلوچ کے ذریعے اختلاف رائے کا اظہار کیا کرتے ہیں ؟ کیا سیاسی مکالمہ الزام تراشی کے پیرائے میں کای جاتا ہے ؟ یہ کیسا شعور ہے جو بنا ثبوت اپنے ہر مخالف کو چور ڈاکو اور بدعنوان قرار دے کر زندان میں ڈالنے کے درپے رہتا ہے؟ کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں کہ پوری جماعت آنکھیں بند کر کے کسی لیڈر کی پیروی کرتی رہے۔ کیا ملک کے سب سے بڑے صوبے کی باگ ڈور بزدار سائیں جیسے ریموٹ کنٹرولڈ وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں دینے کو میرٹ کہا جاسکتا ہے؟ ملک میں انصاف کی داعی جماعت میں جمہوری روایات کا عالم یہ ہے کہ اقتدار کے ساڑھے تین سالہ دور میں کی گئی فاش غلطیوں پہ کوئی لیڈر یا کارکن چوں بھی نہیں کرسکتا ۔ کم وبیش یہی حال دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی ہے۔ بلند و بانگ دعوئوں کے مقابل پیش کرنے کے لئے رتی بھر کارکردگی بھی پلے نہیں لیکن سوشل میڈیا پہ اودھم ایسا برپا کر رکھا ہے گویا عدم اعتماد کامیاب نہ ہوتی تو مزید ڈیڑھ برس میں ملک دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بن جاتا۔ پہاڑ جیسی سیاسی اور قانونی غلطیوں کا ارتکاب کرنے والی جماعت نے ہر ریاستی ادارے کو سینگوں پہ اٹھا رکھا ہے۔ اپنی صوبائی حکومتیں اپنے ہی ہاتھوں ختم کرنے کے بعد واویلا سیاسی مخالفین اور عدلیہ کے خلاف مچایا جاتا رہا ۔ پہلے پارلیمان سے اجتماعی استعفے دے کر سڑکوں گلیوں میں احتجاج کا اودھم بپا کیا جاتا رہا ۔ نو مئی کو اس طوفان بدتمیزی نے احتجاج کی آڑ میں دفاعی اداروں پہ یلغار کر ڈالی۔ صد شکر کہ فوج نے حد درجہ صبر و احتیاط سے کام لیتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف موقع پر طاقت کا ستعمال نہ کر کے منصوبہ سازوں کو ان لاشوں سے محروم کر دیا جن کی بنیاد پر ملک میں وسیع پیمانے پہ افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جماعت کے مطلق العنان بانی قانونی مشیروں کی قابلیت کی بدولت اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے پارٹی کی ڈوریں ہلا رہے ہیں۔ بھونڈے انداز میں کروائے گئے بوگس انٹرا پارٹی انتخابات اسی ماہرانہ کاریگری کا شاخسانہ تھے جس کے نتیجے میں جماعت اپنے من پسند انتخابی نشان بیٹ سے محروم ہوئی۔ ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ اپنی نالائقی کا الزام عدلیہ اور الیکشن کمیشن پہ تھوپ دیا گیا ۔ اندھے پیروکاروں نے سوشل میڈیا پہ زمین و آسمان ایک کر دیا لیکن پوری جماعت میں ایک بھی ایسا مرد دانا سامنے نہ آسکا جو پارٹی کی قیادت سنبھالنے والے ہیوی ویٹ وکلاء کے گروہ کی ناقص حکمت عملی پہ سوال اٹھا سکتا ۔
تحریک انصاف المعروف سنی ا تحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست کو پشاور ہائیکورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور پہ مسترد کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر ایسی جماعت سے اتحاد ہی کیوں کیا گیا کہ جس کی اسمبلی میں نہ تو کوئی نشست تھی اور نہ ہی اس جماعت نے مخصوص نشستوں کے لئے امیدواروں کی فہرست جمع کروائی تھی۔ اس قانونی سقم کا جواب دینے کے بجائے انصافی لشکر گالم گلوچ ، الزام تراشی اور کردار کشی کے ہتھیارون سے لیس ہو کر سوشل میڈیا کے محاذ پہ سرگرم عمل ہے۔ ایک وکیل صاحب کی رائے ہے کہ سنی اتحاد کو نسل سے اشتراک عمل غلط فیصلہ تھا ۔ دوسرے صاحب کا فرمانا ہے کہ یہ فیصلہ اڈیالہ جیل سے بانی چیئر مین نے صادر فرمایا تھا ۔ ایک اور قاصد نے انکشاف فرمایا ہے کہ دراصل بانی چیئرمین نے تو ایم ڈبلیو ایم سے اتحاد کی ہدایت دی تھی۔ جتنے منہ اتنی باتیں ۔ جتنے ملاقاتی اتنی حکایتیں ۔ جس جتھے سے جماعت نہیں چلائی جارہی ان سے ملک کیسے چلایا جاسکے گا۔ جس جماعت میں یہ نہیں طے ہو پاریا ہے کہ اڈیالہ جیل سے دراصل کیا پیام آیا ہے اس سے اور کیا امید باندھی جائے ۔ بقول شاعر
کس کا یقین کیجئے کس کا نہ کیجئے
لائے ہیں اس کی بزم سے یار خبریں الگ الگ

یہ بھی پڑھیں