پہلے فلاحی کاموں کی آڑ میں خدا کے نام پر چندہ بٹورنے اور چپکے سے ہڑپ کر جانے کی تہمت نو سر بازوں پہ لگا کرتی تھی ۔ یہ جعلساز مختلف بھیس بدل کے گلی گلی گھوم کر سادہ لوح عوام کو اپنی درد بھری گفتگو سے شیشے میں اتار تے ۔ آخرت کی اجر کی نوید سناتے اور بھولے بھالے عوام کی جیبوں سے ان کی حق حلال کی کمائی نکلوا کر رفو چکر ہو جاتے ۔ گاہے یہ نوسرباز پولیس یا عوام کے ہتھے چڑھ جائیں تو یہ چشم کشا انکشاف ہوتا ہے کہ یتیموں مسکینوں کے نام پہ بٹورا ہوا مال دراصل ذاتی عیاشی اور پیٹ پوجا کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ خیر سے اب نیا زمانہ ہے اور ہر روز نت نئے انکشافات ہوتے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ نو سربازی اور جعلسازی کا قدیم فن بھی اب اہل سیاست کی دست برد سے محفوظ نہیں رہا ۔ یہ تازہ انکشاف امریکہ میں ہوا ہے جہاں ایک سیاسی جماعت کے حامیوں نے لگ بھگ دو ملین ڈالر کا سیاسی چندہ خرد برد کر دیا ہے۔ یہ مت سمجھئے گا کہ نوسر بازی کی واردات میں بائیڈن یا ٹرمپ کے حامی ملوث ہیں۔ جی نہیں! ایسا بالکل نہیں ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس جدید نو سربازی میں ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے دو انتہائی سرگرم حامی ملوث ہیں ۔ یہ جماعت پاکستان پہ حکمرانی کرنے کے بعد اب اپنی سیاسی غلطیوں کا ٹوکرا سر پہ اٹھائے ملک کے اندر اودھم مچا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا سمیت بیرون ملک اس جماعت کے سرپھرے حامی ، بھگوڑے اور نوسرباز نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر کے پاکستان کی ساکھ برباد کر رہے ہیں ۔ اس سیاسی نو سربازی کا انکشاف سب سے پہلے امریکی میڈیا ویب سائٹ امریکا ڈیلی پوسٹ پہ کیا گیا ۔
سولہ مارچ کو تھریسا ڈیوڈ سن نے اپنی رپورٹ میں انصافی لشکر کے دو سرگرم حامیوں پہ دو ملین ڈالر کے سیاسی عطیات کے خرد برد کرنے اور پاکستانی انتخابات کے خلاف امریکی لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنے کے الزامات بمع ثبوت شایع کئے ہیں ۔ اس طویل رپورٹ کے چشم کشا انکشافات شائد سابق حکمراں جماعت کے حامیوں کے لئے ناپسندیدہ ہوں لیکن تلخ زمینی حقائق سے آنکھیں کب تک چرائی جاسکتی ہیں ۔ پاکستان میں سادہ لوح عوام کو یہ جھانسا دیا جا رہا ہے کہ امریکی سازش کے نتیجے میں ہماری حکومت کا دھڑن تختہ ہوا ۔ ہمارا قائد تو امریکہ کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔ جبکہ بیرون ملک اسی جماعت کے نمائندے امریکی صدر بائیڈن ، سیکریٹری آف سٹیٹ انتونی بلنکن اور کانگریس ممبرز کو خط لکھ کر پاکستان پہ پابندیاں لگوانے کے لئے سر گرم عمل ہیں ۔ تھریسیا ڈیوڈسن کی رپورٹ کی سرخی میں انصافی لشکر کے امریکہ میں مقیم دونوں حامیوں کے نام شائع کئے گئے ہیں ۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح یہ نام نہاد سیاسی کارکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دو کورٹ مارشل شدہ بھگوڑے سابق فوجیوں کے ساتھ مل کر افواج پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں ملوث ہیں ۔ انسافی لشکر کے سیاسی نو سر بازوں نے دو ملین ڈالر کے لگ بھگ جو چندہ امریکہ مخالف بیانئے کا جھانسہ دے کر عوام کی جیبوں سے نکلوایا اس میں سے صرف تیس ہزار ڈالر کی خانہ پری کی گئی جبکہ بقیہ رقم کا کوئی حساب کتاب یا آڈٹ نہیں کروا یا گیا ۔ کمال یہ ہے کہ امریکہ کی دھائی دینے والے عیار پیدا گیر امریکی لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کر کے پاکستانی الیکشن کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں ۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چندے کے دھندے میں ملوث دونوں انصافی نوسرباز جماعت کے بانی اور ان کی ہمشیرہ محترمہ کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں ۔ جو انکشافات امریکا ڈیلی پوسٹ میں کئے گئے ہیں ان کی بازگشت کافی عرصے سے امریکا اور لندن میں مقیم پاکستانی حلقوں میں سنائی دے رہی تھی ۔ جو سادہ لوح پاکستانی امریکا مخالف جعلی بیانئے کا شکار ہو کر سیاسی نوسربازوں کو اپنی حق حلال کی کمائی سے عطیات دیتے رہے وہ ان جعلسازوں کی ملک دشمن حرکات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ ایک زبا ن دراز بڑبولا سابق مشیر خاص اور چند مفرور وی لاگرز بھی سوشل میڈیائی نوسر بازی میں پیش پیش ہیں ۔ چند روز قبل آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر کے سامنے ناکام احتجاج میں بھی یہ سابق مشیر خاص پیش پیش تھا۔ مقام افسوس ہے کہ جو جماعت برسوں تک مسند اقتدار پہ بیٹھ کر ملک کے سیاہ و سفید کی مالک تھی اس کی صفوں میں سے ہی اقتدار کے حصول کے لئے بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے مفادات پہ کاری ضربیں لگائی جا رہی ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک اور باعث تشویش بات یہ ہے کہ تمام ملک دشمن وارداتیں ایسے وقت کی جارہی ہیں جبکہ پاکستان دہشت گردی ، سیاسی عدم استحکام اور سنگین معاشی بحران سے نبرد آزما ہے۔ ملک تو ان بحرانوں سے ضرور نکلے گا تاہم عوام یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ سیاسی چندے کی خرد برد کے گندے دھندے میں ملوث وطن فروشوں سے کسی خیر کی توقع نہیں۔