نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے بھارت دیش کو مہان بنانے کے لئے جو گل کھلائے ہیں وہ یکے بہ دیگرے آشکار ہو تے جارہے ہیں ۔ بین الاقوامی جریدے گارڈین میں شائع ہونے والی کہانی نے مہان دیش کی پیشانی پہ نئی کالک تھوپ دی ہے۔ دنیا بھر میں ڈھنڈورا پٹ رہا ہے کہ مودی سرکار کرائے کے قاتلو ں کے ذریعے دوسرے ممالک کی سرزمین پہ اپنے ناقدین کے قتل کروانے میں ملوث ہے۔ گزشتہ برس یہی الزام سب سے پہلے کینیڈا نےبھارت پہ عائد کیا تھا۔ واضح ہو کہ گزشتہ برس اگست میں کسی معمولی سفارتی اہلکار نے نہیں بلکہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمان میں خطاب کے دوران بھارت پہ سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے بہیمانہ قتل کا الزام عائد کیا۔ دنیا بھر میں سکھ تنظیموں سمیت میڈیا اور انسانی حقوق کے لئےکام کرنے والے اداروں نے بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کو مورود الزام ٹہرایا ۔ کینیڈا نے اس قتل کے حوالے سے بھارتی سرکار کو ناقابل تردید ثبوت بھی پیش کئے جن کا کوئی واضح جواب تاحال بھارت نہیں دے سکا۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے مودی سرکار کے لے پالک میڈیا نے کینیڈین وزیر اعظم کے خلاف مذموم مہم چلائی ۔ جی ٹوئینٹی کانفرنس کے موقع پہ سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر جسٹن ٹروڈو کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھا گیا۔ ابھی ہردیپ سنگھ نجر کے بہیمانہ قتل کی بازگشت کم نہ ہوئی تھی کہ امریکہ میں اسی نوعیت کی واردات کا بھانڈہ پھوٹ گیا ۔ سکھوں پہ ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کے لئے را اہلکاروں نے نکھل گپتا نامی ایجنٹ کے ذریعے کرائے کے قاتل سے رابطہ کیا ۔ کرائے کا قتل دراصل امریکی ادارے کا انڈرکور ایجنٹ تھا ۔ بروقت مخبری کی بدولت نکھل گپتا ژیک ریپبلک میں دھر لیا گیا جہاں اس کی امریکہ منتقلی کی قانونی کاروائی جاری ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں اس انکشاف کے بعد امریکہ بہادر نے بھارت کو اس معاملے پہ تحقیقات اور تادیبی کاروائی کے علاوہ وضاحت طلب کی ۔ رواں برس جنوری میں نگراں حکومت کے دور میں دفتر خارجہ کے ترجمان سائرس قاضی نے بھی آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں دو پاکستانی شہریوں کے قتل کا الزام بھارت کی خفیہ ایجنسی پہ عائد کیا ۔ پاکستان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسی نوعیت کے مذید واقعات کی چھان بین ابھی جاری ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان تسلسل سے بھارت پہ منظم سرحد پار دہشت گردی کے الزامات بمع ثبوت پیش کرتا رہا ہے ۔ بھارتی سرکاری دہشت گردی کا جیتا جاگتا ثبوت آج بھی کھل بھوشن کی صورت پاکستان کی تحویل میں ہے۔ چند روز قبل بھارت نے امریکی دبائو پہ گرپتونت سنگھ کے قتل کے ناکام منصوبے کی زمہ داری ایک باغی اہلکار پہ ڈال کر معاملہ دبانے کی کوشش کی ۔ اس چالاکی کا احوال بلومبرگ نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں شائع کیا ہے۔ چونکہ امریکہ اور کینیڈا کے پاس بھارتی ایجنسی کی نالائقی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں لہٰذا بھارت نے اپنے نامعلوم اہلکار کو بلی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی سرکار کی شدت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں سرکاری ادارے ملکی اور عالمی قوانین کو روند کر دنیا بھر میں قتل و غارت بازار گرم کر نا چاہتے ہیں ۔ پیشہ ورانہ نااہلی کی بدولت تمام وارداتیں دنیا بھر میں بے نقاب ہو چکی ہیں۔ جنوری میں پاکستانی دفتر خارجہ نے جن زیر تفتیش وارداتوں کا اشارہ دیا تھا۔ ان کی کافی تفصیل گارڈین نے اپنی رپورٹ میں شائع کی ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں بھارتی کرائے کے قاتلوں نے پاکستان میں بیس شہریوں کو ہدف بنایا۔ گرفتار ہونے والے ملزمان نے بھارت اور یو اے ای میں مقیم ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کا بھی انکشاف کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی اداروں کے پاس بھارتی دہشت گردی کے ان گنت ثبوت موجود ہیں ۔ اس بین الاقوامی بدنامی کے باوجود بھارت روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزامات سےانکار کر رہا ہے۔
گارڈین رپورٹ کے تناظرمیں بھارتی رکھشا منتری راج ناتھ سنگھ کے ایک انتہائی متنازعہ انٹر ویو کا بہت چرچاہو رہا ہے۔ نام نہاد جمہوریہ کے وزیردفاع نے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بہت ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان میں گھس کے مارنے کی گھسی پٹی دھمکی ایک بار پھر دھرائی ہے ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے الیکشن سے پہلے اس پاکستان مخالف جنگی جنون ابھار کر ایک مرتبہ پھر بی جے پی بھارتی عوام کے ووٹ بٹورنے کے چکر میں ہے۔ شہید بابری مسجد کے کھنڈرات پہ رام مندر کی تعمیر کا افتتاح اسی انتخابی ڈرامہ بازی کی ایک کڑی تھی ۔ اس کے بعد میزائلوں کے تجربے کئےجانے لگےاوراب کرائے کے قاتلوں والی کالک کو مودی سرکار کی حسن کارکردگی کے طور پہ پیش کیاجارہا ہے۔ دنیا بھر میں مودی سرکار کے کرائے کے قاتلوں پر لعن طعن کی جارہی ہے ۔ جبکہ آتنک واد سرکا ر کا بد زبان رکھشا منتری پڑوسی ملکوں کو سرحد پار دہشت گردی کی گیدڑبھبھکیاں دے کر اپنی عوام سے ووٹ بٹورنے کا بندوبست کر رہا ہے۔