برطانیہ میں پاکستانی میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں اس پیشے سے جڑے ہوئے صحافی لوہے کےچنےچبانے کے مترادف کمیونٹی کی خدمت کے لئے کام کررہے ہیں ۔ اکثریت ایسے صحافیوں کی ہےجو اپنا اور اپنی فیملیز کا پیٹ پالنے کے لئے دوسری کوئی فل ٹائم جابس بھی کررہے ہیں جبکہ اس ملک کی برق رفتار زندگی میں جہاں گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ بھاگنا پڑتا ہے اور وقت ہی پیسہ ہے پاکستانی صحافی وقت نکال کر اپنے اپنے اداروں کے لئے کمیونٹی کی خبریں دیتے ہیں اور ایونٹس کی بھرپور کوریچ کرتے ہیں پاکستان کے اندرجو صحافی کام کررہے ہیں اگرچہ ان کا کام بھی مشکل ہے مگر انکا برطانوی پاکستانی صحافیوں سے موازنہ کیا جائے تو برطانیہ کے صحافیوں کو کئی اعتبار سے زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک تو پاکستانی میڈیا ہائوسز کی جانب سے یا تو ان کو اجرت یا فنانشل سپورٹ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہے۔ جن سے ان کا وقت ضائع ہوتا ہے اور عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے جو صحافی ٹی وی چینلوں کے لئے کام کرتے ہیں وہ نہ صرف اپنا سفری خرچ بھی خود ہی برداشت کرتے بلکہ ایونٹس کی کوریچ کرتے ہوئے خود ہی کمیرہ مین ہوتے ہیں اور رپورٹ بھی تیار کرتے ہیں۔
برطانیہ میں صحافیوں کو باہم ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور انکے مسائل کے لئے آواز اٹھانا انکو ایک لڑی میں پرونا انکے دکھ درد میں شامل ہونا ایک مشکل کام تھا اسی لئے پاکستان پریس کلب یوکے کا قیام 2009 -2010 ء میں عمل میں لایا گیا ابتدا میں بانی مبین چوہدری مرحوم نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنایا اور چند ساتھیوں کے ہمراہ صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا پھر یہ کارواں بڑھتا گیا نشیب وفراز آتے رہے صحافی اس کلب میں آتے رہے کچھ چھوڑ کر بھی جاتے رہے پھر پچھتاتے بھی رہے لیکن پاکستان پریس کلب یوکے نے اپنا سفر جاری رکھا اس کلب کے دروازے صحافیوں کے لئے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔ اسلام کے خلاف مغربی ممالک میں منفی پروپیگنڈے سے مسلمانوں کو اگاہ رکھنا تاکہ وہ اسلامو فوبیا کی پیش بندی کر سکیں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ہر جگہ اجاگر کرنا مغربی معاشروں میں اپنی اسلامی تعلیمات پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر یہاں مکمل انٹگریشن کرنا۔ انسانی حقوق کی پاسداری، جمہوریت کی بقا اور ازادی اظہار رائے کے لئے کوشاں رہنا ہے ہمارے نزدیک اس بات پر مکمل اتفاق تھا کہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو پیش کرنا ہے اور مادر وطن کی خوشبو میڈیا کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں تک پہنچانا ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل کا بھی تعلق پاکستان سے مضبوط ہو میں نے پاکستان کے بارے میں اپنے استاد محترم جنگ لندن کے سابق ایڈیٹر ظہور نیازی صاحب کو ہمیشہ ایسے ہی نظریات کا حامل پایا ہے جس پر وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک عمل پہرا رہے کاش حکومت پاکستان یا پاکستان ہائی کمیشن لندن مبین چوہدری مرحوم کی فیملی یا ظہور نیازی صاحب کو انکی پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے لازوال خدمات کے عوض ستارہ امتیاز سے نوازے تو صحافتی برادری کی حوصلہ افزائی ہو آپ نے ان دنوں میڈیا پر پاکستان پریس کلب یوکے کے الیکشن کی تشہیر سنی یا دیکھی ہوگئی ہمارے الیکشن 21 اپریل کو پاکستان سنٹر منعقد میں یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس کے سابق صدر نائید رندھاوا کی زیر نگرانی منعقد ہورہے ہیں یہ الیکشن ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جبکہ مشرق وسطی کے حالات اتنے خراب ہوچکے کہ اکتوبر سے اب تک تینتیس ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں تیسری عالمی جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں اسرائیل کے خلاف میڈیا میں بات کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے برطانیہ کی بڑی جماعتوں کو اسرائیل کی حمایت پرکونسلرز اور ممبران آف پارلیمنٹ چھوڑرہےہیں دنیاجسطرح عالمی سطح پر تقسیم ہے یوکے یورپ میں بھی وہی حالات ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر جس کو شہ رگ کہا جاتا ہے پر کوئی بات ہی نہیں کررہا ہے ۔ ایسے میں پاکستانیوں کومتحد رکھنابھی صحافیوں کی ذمہ داری ہے جب کہ صحافتی برادری کو خود زیادہ سے زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
پاکستان پریس کلب کے گزشتہ الیکشن 29 جنوری 2023 ء کو منعقد ہوئے تھے اور میں بطورِ صدر بلامقابلہ منتخب ہواتھا مبین چوہدری مرحوم اور ہمارے ساتھیوں کے درمیان باہم مشاورت اور رائے عامہ ہموار ہو ئی تھی لیکن افسوس کہ اسی روز مبین چوہدری مرحوم کا انتقال ہوگیا تھا گزشتہ ایک سال سے مجھے پریس کلب کی مرکزی تنظیم کے تمام مخلص ساتھیوں سمیت لوٹن بریڈفورڈمانچسٹر مڈلینڈ اور شیفیلڈ کی ذیلی برانچوں کی بھرپور حمایت اور سپورٹ حاصل رہی جس پر سب کو تحسین پیش کرتا ہوں پاکستان پریس کلب واقعی ہی ایک خاندان اور فیملی ہے میرے دو دفعہ دورہ پاکستان کے دوران پی ایف یوجے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد،راولپنڈی پریس کلب لاہور پریس کلب، گوجرانوالہ پریس کلب کھاریاں پریس کلب، کشمیر پریس، میرپور پریس کلب اور دیگر صحافیوں کے ساتھ جہاں بھی مجھے موقع ملا میں نے پاکستان پریس کلب کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے اور جس بھی پلیٹ فارم پر میں گیا ہوں میں صحافیوں کے حقوق اور جمہوریت اور آئین کی بالادستی سمیت اوورسیز پاکستانیوں کی بات کی ہے اب جبکہ میں صدارت سے سبکدوش ہو رہا ہوں میرا رول ایک ایگزیکٹو ممبر کی طرح کا مرکزی باڈی میں رہے گا لیکن اب پریس کلب کے انتخابات میں نئے عہدیداروں اور امیدواروں کی زبردست ٹیم سامنے لائی جارہی ہے جس میں خواتین بھی شامل ہیں اس وقت معروف صحافی پرانے یونینسٹ اور پریس کلب کے بانی صدر مبین چوہدری کے دیرینہ ساتھی ارشد رچیال بلا مقابلہ مرکزی صدر منتخب ہوچکے ہیں یاد رہے ارشد رچیال اس سے پہلے بھی صدر اور مرکزی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں اسی طرح سینئر نائب صدر مرزا آفتاب بیگ بھی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں آفتاب بیگ کو تعلیم، تربیت، شائستگی رواداری،رکھ رکھا،سچائی، صاف گوئی اور وفاداری یہ سب کچھ اللہ نے ودیعت کیا ہوا ہے ان کی پاکستان پریس کلب یوکے سے وفاداری شروع دن سے ہی ہے اور مختلف عہدوں پر پہلے بھی منتخب ہوتے رہے ہیں پریس کلب کے لئے انجن کی طرح شروع دن سے ہی کام کرنے والے مسرت اقبال جنرل سیکرٹری کے عہدے کے لئے ایک اور نامی گرامی فوٹو گرافر جرنلسٹ غلام دستگیر خان سے مقابلہ کررہے ہیں دونوں پریس کانفرنس کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں نائب صدور کی دو پوسٹوں کے لئے سنیئر صحافی اور کشمیر پوسٹ کے ایڈیٹر ساجد یوسف کامقابلہ نوجوان صحافی مصنف کالم نویس اسرار راجہ اور محترمہ مونا بیگ جو کئی دفعہ ایگزیکٹو ممبر رہ چکی ہیں کہ درمیان مقابلہ ہے جبکہ نادیہ راجہ انفارمیشن سیکرٹری اور صحافتی دنیا کے درخشندہ ستارے ساجد عزیز فنانس سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری معروف صحافتی اور سماجی شخصیت شکیل انجم بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں ایگزیکٹو کی کل سات نشستوں پر 9 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جن میں معروف صحافی اورشاعرہ سیدہ کوثر،سابق انفارمیشن سیکرٹری عمران راجہ، اوصاف لندن کے سابق انچارج عدیل خان، وائس آف بریٹن کے عتیق چوہدری امجد فاروق، ڈاکٹر راجہ اظہر محمود ، لندن سے سید سبطین علی ، سید فیاض شاہ اور لائق علی خان شامل ہیں جبکہ پاکستان پریس کلب کے ممبران کی کل تعداد 140 ہے پاکستان پریس کلب یوکے کے سبکدوش ہونے والے ممتاز صحافی سیکرٹری جنرل زاہد نور نے گزشتہ ایک سال میں جس طرح پریس کلب کے تمام تنظیمی امور کو پیشہ ورانہ انداز میں صبر و تحمل سے چلایا یقینا وہ داد و تحسین کے مستحق ہیں پاکستان پریس کلب کے ممبران میں اکثریت ورکنگ جرنلسٹوں کی ہے یاد رہے کہ مبین چوہدری کی وفات کے بعد پاکستان پریس کلب کے روح رواں سابق سینئر نائب صدر چوہدری اکرم عابد کا کردار اہم ہے جنہوں پاکستان پریس کلب یوکے کے تمام عہدیداروں اور ممبران کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا نئے ممبران میں ٹی وی اینکر حافظ مسعود عالم، راجہ اعجاز شائق تیمور لون اقدس مغل،فائزہ نقوی، ابوذر شامل ہیں۔ نئی ممبرشپ الیکشن کے بعد ہی شروع کی جائے گی جو نئی باڈی کی ذمہ داری ہے یاد رہے کہ پاکستان پریس کلب کی تقریب حلف برداری میں کوئی دو سو افراد کی شرکت متوقع ہے لندن میں پاکستان پریس کلب یوکے کی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے یہ سب سے بڑا ایونٹ ہوگا جس میں ممبر آف پارلیمنٹ، ہاوس آف لارڈز کے ارکان مئیرز، کونسلروں مذہبی سیاسی سماجی تنظیموں کے افراد کی شرکت متوقع ہے۔