فکری انحطاط پہ اہل دانش تشویش کا شکار ہیں۔ سوال یہ درپیش ہے کہ کیا دشنام طرازی بھی سیاسی بیانئے کے فروغ کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے ؟ کیا افواہوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو زیر کرنا اخلاقی اعتبار سے درست ہے ؟ کیا سیاسی جد وجہد کو جنگ کی صورت دے دینا درست ہے نیز کیا جنگ اور محبت میں سب جائز ہے کا اصول اختیار کر کے ہر ناجائز حرکت کے لئے جواز گھڑا جا سکتا ہے؟ کیا سیاسی اختلاف رائے کی بنیاد پہ حکمراں جماعت کے ان اقدامات کو بھی ہدف بنانا درست ہے جن سے ریاست کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ؟ ملک میں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی خبروں کی صداقت جانچنے کا پیمانہ مقرر کرنا کس قدر ضروری ہے ؟ اخبارات اور ٹی وی چینلز میں ایڈیٹر خبروں کی صداقت پر کھنے کے ذمہ دار ہیں ۔ سوشل میڈیا پہ خودرو خاردار جھاڑیوں کی طرح جنم لینے والے بھانت بھانت کے چینلز کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ایک کیمرے کے سامنے خود ساختہ تجزیہ نگار چرب زبانی کی ہتھوڑی سے افواہوں کے کیل ناظرین کے دماغوں میں ٹھوکے چلے جا رہے ہیں ۔ اندھا دھند ٹھوکے گئے کیلوں نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لی ہے۔ ملک میں قانون کے شکنجے اور دلیل کی کسوٹی سے بچنے کے یو ٹیوبرز کا ایک ٹولہ بیرون ملک مورچہ زن ہے۔ جھوٹی خبروں اور زہریلے بیانئے کی فیکٹریاں چوبیس گھنٹے فعال ہیں ۔
جعلی بیانئے کے ہتھیار سے ریاست پاکستان کی بنیادوں پہ وار کئے جارہے ہیں ۔ ناپختہ نوجوان ذہنوں کو پاکستان سے بد ظن کر نے کے لئے مایوسی کا غبار پھیلایا جا رہا ہے۔ لندن کی پناہ گاہ سے جعلی بیانئے کی فیکٹری چلانے والے بھگوڑے ریٹائرڈ اہلکار کا معاملہ نہایت چشم کشا ہے۔ چرب زبان یو ٹیوبر نے لگ بھگ دو برس سے کزب گوئی اور افواہ سازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ موصوف نے ریاست مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان میں داخلی انتشار اور عساکر پاکستان کی صفوں میں بغاوت کے بیج بونے کے لئے یو ٹیوب ، ٹوئٹر(ایکس) اور فیس بیک پلیٹ فارمز کا مجرمانہ استعمال کیا گیا ۔ حساس ادارے کے اہلکاروں پہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے۔ چونکہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے لہٰذا برطانیہ کی عدالت میں پاکستانی افسر کی جانب سے دائر کئے گئے مقدمے میں بھگوڑا یو ٹیوبر قانون کے شکنجے میں آچکا ہے۔ برطانوی عدالت نے پاکستان سے مفرور جعلساز کی دروغ گوئی پہ مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ پاک فوج سے کورٹ مارشل کے بعد اب یہ چرب زبان یو ٹیوبر برطانوی عدالت سے بھی انٹرنیشنل سرٹیفائیڈ جھوٹا ہونے کی مہر ثبت کروا چکا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ بھگوڑے یو ٹیوبر کے جھوٹے پروپیگنڈے کو تحریک انصاف نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کیا ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ سابق حکمران جماعت کے حامیوں کے نزدیک بھگوڑا یو ٹیوبر دیوتا کی طرح پوجا جاتا رہا ۔ اب برطانوی عدالت میں جھوٹے بیانئے کی قلعی کھلنے کے بعد بھگوڑا یو ٹیوبر ہی نہیں بلکہ درپردہ اس کے پروپیگنڈے کا سیاس فائدہ اٹھانے والی جماعت بھی بے نقاب ہو چکی ہے؟ یہ سوال جواب طلب ہے کہ کیا دشنام طرازی اور دروغ گوئی کی بنیاد پہ سیاسی بیانیئے کو فروغ دینا درست ہے ؟ تحریک انصاف الیکشن کے بعد ایک صوبے میں حکومت تشکیل دی چکی ہے جبکہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں اس کی نمائندگی قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود دھاندلی کے مسئلے کو الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے فورمز پہ لے جانے کے بجائے سڑکوں گلیوں اور سوشل میڈیا پہ اچھال کر ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ تحریک انصاف ریاست کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔
حسب روایت جب ایک ترجمان نے زہر اگل دیا تو اب نصف درجن ترجمانوں کا گروہ کھوکھلی تردیدوں کے ذریعے معصومیت کا لبادہ اوڑھ رہے ہیں۔ یہی ریاست دشمن رویہ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر اپنایا گیا ۔ بعد ازاں ایک سابق ترجمان آ ئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر کے سامنے مٹھی بھر کرائے کے احتجاجی جمع کر کے ملک کی جگ ہنسائی کا سامنا کرتا رہا۔ انصافی لشکر کو اپنی صفوں کی تطہیر کر کے ایک ذمہ دار قومی جماعت کی طرح سیاست کرنی ہوگی۔ یہ امر غور طلب ہے کہ جھوٹے بیانئے گھڑنے والے کورٹ مارشل شدہ یو ٹیوبر اور ایک گالی نما شرمناک بازاری جملے سے راتوں رات شہرت پانے والے بدن زبان ترجمان ایک قومی جماعت میں اتنے مقبول کیوں ہیں؟ حکمراں جماعت سے اختلاف کے بجائے انصافی توپچی ریاست پہ گولہ باری کیوں کر رہے ہیں ؟ اگر کوئی دوست ریاست ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہ رہی ہے تو یہ کیوں تلملاہٹ کا شکار ہے َ؟ اگر اپنے زریں عہد اقتدار میں تحریک انصاف بیرونی قرضوں کا تدارک نہ کر سکی تو آج آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کو سبو تاژ کیوں کرنا چاہ رہی ہے ؟ عقل مندی کا تقاضہ ہے کہ حکمراں جماعت کے بغض میں ریاستی مفادات کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے تحریک انصاف مثبت حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے ہوئے اندرونی استحکام کی بحالی پہ توجہ مر کوز کرے۔