Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

تحریک کی تیاریاں، حکومت بھی تیار

پاکستان تحریک انصاف دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاج کا پروگرام بنا رہی ہے۔در پردہ اس حوالے سے بہت سی تیاریاں ہو رہی ہیں۔زونل دفاتر کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ حکومت کے خلاف بھرپور جلسوں،ریلیوں اور اسلام آباد کے ڈی چوک میں لامحدود مدت کے لیے دھرنے کا اہتمام ہو سکے۔ہماری معیشت جس حال میں ہے،اسے اس بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے ہمیں کس تندہی اور سوچ کی ضرورت ہے،کم ہی لوگ اس بارے میں غور کر رہے ہیں۔اپی ٹی آئی کی ہمنوا جماعتیں بھی دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے سڑکوں پر آنے کے لیے پرتول رہی ہیں۔حکومت بھی الرٹ ہے اور جانتی ہے کہ مستقبل قریب میں اسے کس قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ خبریں گرم ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر مختلف دھڑے آمنے سامنے آ گئے ہیں جو ایک دوسرے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں جس سے پارٹی انتشار اور خلفشار کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ عوامی سطح پر بھی ان دھڑوں اور مختلف رہنمائوں کے مابین محاذ آرائی زوروں پر ہے۔شیر افضل مروت کے بیانات سے پی ٹی آئی میں ڈسپلن کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔گرچہ جماعت کے آفیشل ترجمان رئوف حسن ہیں لیکن ڈسپلن کا یہ حال ہے کہ کئی رہنما خود سے پارٹی کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔رئوف حسن کا کہنا ہے اصل مسئلہ پارٹی رہنمائوں کو عمران خان تک رسائی نہ دینا ہے۔اسی وجہ سے کنفیوژن پھیل رہا ہے۔دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اس وقت دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہے۔ایک دھڑا سیاستدانوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسرے دھڑے کی نمائندگی وکلا حضرات کر رہے ہیں۔ وضاحتیں اپنی جگہ،مگر اندرونی لڑائیوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔مبصرین کا خیال ہے جب تک عمران خان جیل سے واپس آ کر پارٹی کا مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرتے،تب تک کوئی کمی نہیں آئے گی۔ایکماضی میں پیپلز پارٹی میں بھی دھڑے رہے ہیں،تاہم پی ٹی آئی جیسے حالات کبھی پیپلز پارٹی میں دیکھنے میں نہیں آئے۔پی پی پی کے لیڈر اور قائد بھی گرفتار ہوتے رہے۔لمبی قیدیں کاٹیں،لیکن وہاں کبھی ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی۔جس کا سامنا آج پی ٹی آئی کو ہے۔پی پی پی کے اندرونی اختلافات یا دھڑے بندی کبھی پارٹی کی فیصلہ سازی پر اثر انداز نہیں ہوئی۔ایسا تاثر ابھر رہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منفی عمل سے گزر رہی ہے جو مستقبل میں اس کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس مشکل وقت میں ضرورت ہے کہ پارٹی کی تنظیم سازی کی جائے۔اسے مضبوط بنانے کے لیے شب و روز ہمہ تن کوشش کی جائے مگر لگتا ہے پارٹی میں جگہ بنانے کی فکر نے جگہ بنانے والوں کو ہی نہیں، باقی لیڈر شپ کو بھی ہلکان کر رکھا ہے۔کوئی کسی کے قابو میں نہیں،کوئی کسی کی بات سننے کے لیے تیار و آمادہ نظر نہیں آتا۔شیر افضل مروت میڈیا میں اِن رہنے کے لیے ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جس سے چینلز اور اخبارات میں ان کی ہیڈ لائنز بنتی ہیں لیکن جیسے ہی ان کا کوئی بیان سامنے آتا ہے پارٹی کے ترجمان اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں۔معروف تاریخ دان اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر الہان نیاز کے مطابق دنیا میں سیاسی بحثوں کو ایک مثبت بات سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں لوگ اسے انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پی ٹی آئی رہنمائوں کے پیچھے بھی یہی ثقافت ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے ہاں جھگڑا،انا یا باس کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ بیان بازی میں ایک دوسرے سے آگے نکل جاتے ہیں۔ الہان نیاز کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی رہنمائوں کے اختلافات عوامی طور پر ظاہر ہونے اور ان کی باقاعدہ چپقلش کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی کہ اس جماعت کی تیسرے یا اس سے بھی نچلے درجے کی قیادت اچانک ابھر کر سامنے آئی ہے۔وہ سیاسی معاملات میں ناتجربہ کار ہے۔فروری کے انتخابات میں بہت سارے نئے لوگ پہلی دفعہ منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں،جن کو منظم کرنے کے لیے پارٹی میں اعلی قیادت موجود نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مختلف خیالات کے لوگوں کی سوچوں کا فرق شدید اختلافات میں ڈھل رہا ہے۔ اختلافات کی ایک وجہ عمران خان تک سب کی رسائی کا نہ ہونا ہے جس کا پارٹی کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔تحریک انصاف کی سیاسی بقا آج کا اہم سوال ہے۔تحریک انصاف کوئی خاندانی جماعت نہیں۔باقی جماعتوں میں جب بھی مشکل حالات آئے پارٹی سربراہ جب بھی زیر عتاب آیا،لمبے ٹائم کے لیے اسے جیل جانا پڑا تو اس سربراہ کے خاندان میں سے ہی مقید رہنما کے بھائی یا بیٹے نے نہ صرف پارٹی قیادت سنبھال لی بلکہ پارٹی کے نظم و نسق کو بھی بہت اچھے طریقے سے چلایا۔
تاہم پی ٹی آئی میں ہمیں اس صورت حال کا فقدان نظر آتا ہے۔ عمران خان جیل گئے تو ان کے خاندان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جو پارٹی کی باگ ڈور سنبھالتا۔یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کو آج سخت بحرانی حالات کا سامنا ہے۔پارٹی کیا ختم ہو جائے گی؟ یہ ایسا سوال ہے جو پارٹی کے مسائل میں سخت اضافے کا باعث ہے۔ویسے تو کسی بھی سیاسی جماعت کو لمبے عرصے تک قائم نہیں رہنا چاہیے۔لیکن تحریک انصاف کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایک سوچ منسلک ہے کہ عمران خان کے بعد پارٹی نہیں رہے گی۔یا پھر اس کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی۔اسی وجہ سے اس کے دوسرے اور تیسرے درجے کے رہنما ایک دوسرے سے آگے جانے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔جس کے بعد ان کے اختلافات سامنے آنے لگتے ہیں۔پی ٹی آئی کو اگر زندہ رہنا ہے تو اسے صرف عمران خان پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ایسی متبادل قیادت ڈھونڈنی چاہیے جو عمران خان کا نعم البدل ہو۔بہرحال تحریک انصاف ملک بھر میں تحریک چلانے کی بات کر رہی ہے لیکن حکومت اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو قوی یقین ہے کہ تحریک انصاف کی اس کوشش کو وہ ناکام بنا دیں گے۔ریاستی طاقت سے تحریک چلانے کی ہر کوشش کو کچل دیا جائے گا۔اگلے ایک،دو مہینے بڑے اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں