Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

جبری گمشدگیوں کا من گھڑت بیانیہ

پاکستان پہ چو طرفہ یلغار جاری ہے۔ سرحد پار سے دہشت گرد حملے بلوچستان اور کے پی کو ہدف بنا رہے ہیں۔ ایسے نازک وقت جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فوج ریاست کی بقا کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں کچھ انتشار پسند طبقے دہشت گردوں کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔ زمینی حقائق کو توڑ مروڑ کر جھوٹے بیانئے گھڑے جا رہے ہیں۔ گمشدہ افراد کا مسئلہ کچھ اس انداز سے الجھایا گیا ہے کہ ریاست ظالم اور ملک دشمن دہشت گرد مظلوم دکھائی دینے لگیں ۔ بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں کی جانے والی بد ترین دہشت گردی سے توجہ ہٹا نے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ یہ جھوٹا تاثر پھیلایا گیا ہے کہ ہر لاپتہ فرد دراصل جبری گمشدگی کا شکار ہے اور اس غیر قانونی اقدام کی زمہ داری ریاستی اداروں پہ عائد ہوتی ہے۔ دھرنوں اور جلسوں میں شعلہ بیانی کا مظاہرہ کرنے والے جعلی انقلابی کسی بھی قسم کا ثبوت فراہم کرنے کے پابند نہیں۔ جو الزام عائد کر دیا وہی حرف آخر ہے۔ جو ٹرینڈ سوشل میڈیا پہ وائرل کر دیا بس اسے ہی ثبوت مان کر ریاستی اداروں کو مجرم سمجھا جائے۔ ایسی مجنونانہ روش کسی بھی مہذب معاشرے میں زیادہ عرصہ نہیں پنپ سکتی ۔ البتہ پاکستان کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں سوشل میڈیائی جنگجووں نے قبل از واردات ریاست کو پیشگی مجرم قرار دے دیا ہے۔ اب کسی قانونی کاروائی ، تفتیش یا ثبوت کی گنجائش باقی نہیں ۔ کس کی مجال ہے کہ الزام عائد کرنے والے جنونیوں سے جرح کر سکے اور ان کے غیر قانونی طرز عمل پہ مہذب انداز میں سوال اٹھا سکے۔ لاپتہ افراد کے مسئلے پہ گھڑے گئے جھوٹے بیانئے کو زمینی حقائق کی کسوٹی پہ پرکھا جائے تو نہایت چشم کشا حقائق سامنے آتے ہیں۔ جعلی قوم پرستوں اور نام نہاد کامریڈوں نے یہ تاثر پھیلا رکھا ہے کہ پاکستان میں ریاستی اداروں نے لاتعداد بلوچوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ جبکہ اعداد و شمار کی روشنی میں سامنے آنے والے حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ دیگر ممالک کے مقابل پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ ہرگز تشویش ناک نہیں ہے۔
بین الاقوامی ادارے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ویب سائٹ پہ جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق امریکہمیں لاپتہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی زائد ہے۔ دہشت گردی کے سرپرست بھارت میں مودی راج کے دوران ہر ایک گھنٹے میں اٹھاسی افراد لاپتہ ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی مہان دیش بھارت ہے جس کہ ظلم وستم سے عاجز آکر لاکھوں سکھ مغربی ممالک میں جابسے ۔ جہاں کشمیر ، آسام اور منی پور میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہے۔ اور ریاستی بندوبست کے تحت کرائے کے قاتل دنیا بھر میں ناقدین کو ہدف بنا رہے ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر برس اوسطاً ایک لاکھ ستاسی ہزار افراد لاپتہ ہوتے ہیں ۔ یہ امر غور طلب ہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے سے نبٹنے کے لئے تشکیل دیئے گئے کمیشن نے لگ بھگ دس ہزار کیسوں پہ تفتیش کر کے سات ہزار سے زائد افراد کی گمشدگی کا معاملہ نمٹا دیا ہے ۔ اس قابل تعریف کارکردگی کے باوجود انتشار پسند عناصر ریاست پہ فرد جرم عائد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ چند ماہ قبل لاپتہ بلوچوں کی بازیابی اور بلوچستان کے حقوق جیسے سلگتے مسائل کو بنیاد بنا کر قوم پرست گروہوں کی سرپرستی میں لاپتہ افراد کی لواحقین خواتین نے وفاقی دارلحکومت میں دھرنا دیا تھا۔ بلوچوں کی مظلومیت کا راگ الاپنے والی شعلہ بیاں ڈاکٹر صاحبہ سے جب بھی ریاستی اداروں پہ کئے جانے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کامطالبہ جاتا تو موصوفہ کے لبوں پر تالا پڑ جاتا۔ جب پاکستان نے ایران میں روپوش علیحدگی پسند دہشت گردوں کے کیمپ پہ میزائل حملہ کیا تو زبان دراز ڈاکٹر کے منہ سے سچ نکل آیا۔
محترمہ نے میڈیا کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ہدف بننے والے دہشت گرد دراصل لاپتہ بلوچ اور ان کے اہل خانہ تھے۔ تاہم یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ جن دہشت گرد وں کی ایک غیر ملک کی سرزمین پہ موجودگی کا علم دھرنے میں بیٹھنے والے نام نہاد لیڈروں کو تھا انہیں کس بنیاد پہ لاپتہ افراد یا جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کی فہرست میں ڈالا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ ناکام بنائے گئے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے شرپسند وں کا نام ایسے گمشدہ افراد کی فہرست میں پایا جاتا ہے جن کے لواحقین دھرنوں میں ریاست کو ہدف تنقید بنا رہے ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ گمشدہ افراد کا واویلا مچانے والے عناصر ، ان کے حامی صحافی ، بائیں بازو کے متعصب نسل پرست گروہ اور بعض جانبدار وکلاء دہشت گرد گروہوں کی صفوں میں روپوش ہونے والے علیحدگی پسندوں کے معاملے پہ خاموش رہتے ہیں۔ جو نام نہاد بلوچ دہشت گرد گروہوں کے جھنڈے تلے ریاست پہ وار کر رہے ہیں انہیں لاپتہ افراد کسیے مان لیا جائے۔ فوجی اور سول اہداف پہ کئے گئے دہشت گرد حملوں کی مذمت نہ کرنے والے عناصر دراصل ریاست ، بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں ۔ یہ عناصر سنجیدہ تحقیقات کے بجائے جھوٹے بیانئے کے پرچار پہ یقین رکھتے ہیں۔ اس بات کا بین ثبوت وہ تحقیقات ہیں جن کے نتیجے میں ستتر فیصد کیس حل کئے جا چکے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں