Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

کڑے فیصلوں کاموسم

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی اثنا میں بولیویاکے صدر ’’ایوو مورالس‘‘ روس کے سرکاری دورے کے بعداپنے ملک جارہے تھے کہ ان کے جہاز کو زبردستی ’’ویانا آسٹریا‘‘ میں اتارلیاگیاکہ انہیں یہ شک تھاکہ اس جہازمیں سنوڈن بھی سفرکررہاہے لیکن سخت ترین تلاشی کے بعدصدرکواپناسفرجاری رکھنے کی اجازت ملی ۔ گویااس عمل سے آپ دونوں ممالک کی پریشانی کااندازہ لگاسکتے ہیں کہ انہوں نے سنوڈن کو اغواکرنے کیلئے تمام عالمی سفارتی ضابطوں کو بھی بالائے طاق رکھ دیا۔
سنوڈن کے زیراستعمال آن لائن برقی خدمت کے مالک نے سرکاری خفیہ حکمنامہ ملنے کے بعد فوری طورپرسنوڈن کے زیرِ استعمال یہ سہولت بندکردی لیکن اس کے باوجوداس ادارے کو کئی طریقوں سے حراساں کیاگیا۔اسی طرح برطانوی سرکارنے گلن گرین والڈکے ہم جنس شریک کو روک کربرطانوی دہشتگردی کے قانون کی آڑ میں ہراساں کیا۔ امریکی غصے اور احتجاج کایہ معاملہ اس وقت مزیدعروج پرپہنچ گیاجب اس وقت کے صدر اوبامانے روسی دورے کے درمیان صدر پیوٹن سے ملاقات کرنے سے انکارکردیا۔دنیابھر میں آزادی رائے کااحترام کرنے والوں کانعرہ لگانے والوں کے حساس ادارے کے ارکان نے گار جین اخبارکے دفترمیں زبردستی گھس کروہ تمام کمپیوٹرز تباہ کردیئے جس پرسنوڈن کا دیا ہوا مواد محفوظ تھا۔
امریکی حکام نے فوری طورپرایکشن لیتے ہوئے سنوڈن پرجاسوسی کاالزام عائدکرتے ہوئے اس کاپاسپورٹ منسوخ کردیاتاہم اس اثنا میں سنوڈن ہانگ کانگ سے ماسکو فرار ہو گیاجہاں اس نے کئی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں داغ دیں۔ امریکانے تمام ممالک کو ڈرا دھمکا کر سنوڈن کے تمام فضائی راستے بندکروادیئے اور اس کی سختی سے نگرانی بھی شروع کر دی۔سنوڈن نے روس میں عارضی سیاسی پناہ کی درخواست دائر کردی جس پرامریکانے روس کوبذریعہ خط یہ یقین دلایا کہ سنوڈن کووطن واپسی پرنہ ہی کسی قسم کی کوئی اذیت دی جائے گی اورنہ ہی سزائے موت،اس لئے اسے روس اسے سیاسی پناہ نہ دے تاہم روسی صدرپیوٹن نے امریکاکی یہ استدعا ٹھکراتے ہوئے صاف انکارکر دیا کہ روس کبھی کسی ایسے فرد کوکسی اورملک کے حوالے نہیں کرتا جس نے روس سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہو۔ بالآخرصدرپیوٹن کی منظوری کے بعد سنوڈن کوجولائی 2013کوایک سال کی عارضی سیاسی پناہ دے دی گئی جس کے بعدسنوڈن ماسکو ہوائی اڈے سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔
ایڈورڈسڈون نے اخلاقی جرأت کامظاہرہ کرتے ہوئے دنیاکوکوامریکی پالیسیوں سے آگاہ کیاکہ امریکااپنی سلامتی کوممکن بنانے کیلئے ہرقسم کی قانونی اوراخلاقی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ ایڈورڈسڈون کے امریکہخفیہ ایجنسیوں سے متعلق رازافشا کرنے کے بعدجرمنی میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی پالیسیوں کوبہت تنقیدکانشانہ بنایا گیا اورجرمنی نے امریکہسے سردجنگ میں کئے جانے والاجاسوسی کامعاہدہ ختم کردیاجس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ خودمغربی ممالک میں امریکی انٹیلی جنس کاروائیوں کوتنقیداورمخالفت کاشدید سامنا ہے ۔ انہیں دنوں جرمن میگزین نے اس بات کابھی انکشاف کیاتھاکہ امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر اور 80 ممالک کے سفارت خانوں کی خفیہ جاسوسی کی ہے۔ میگزین کے مطابق امریکی ایجنسی این ایس اے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرمیںویڈیوکانفرنسنگ سسٹم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
تجزیہ نگاروں نے اس انکشاف پراپنے خدشات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگرامریکاپر اقوام متحدہ کی جاسوسی کے الزامات ثابت ہوگئے تویہ امریکااوراقوام متحدہ کے درمیان اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی جس کے مطابق امریکااقوام متحدہ کی جاسوسی کرنے کاکوئی حق نہیں رکھتا اور جاسوسی ثابت ہونے پرامریکی خفیہ کاروائیاں غیر قانونی شمارکی جائیں گی ۔میگزین کے مطابق این ایس اے نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرکے ساتھ ساتھ امریکامیں قائم یورپی یونین کے سفارتخانے کی بھی جاسوسی کاکام بھی سرانجام دیتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق امریکاپوری دنیاکے مواصلاتی نظام کی جاسوسی کرتاہے جس میں لوگوں کے آن لائن ڈیٹااور ٹیلی فون کالزکی نگرانی کی جاتی ہے۔ابھی یہ رپورٹ بھی گردش کررہی تھی کہ امریکہمیں عام کی جانے والی ایک عدالتی دستاویز سے یہ بھی معلوم ہوگیاکہ امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی این ایس اے نے غیرقانونی طورپرسالانہ امریکیوں کی56ہزارکے قریب ذاتی ای میلز جمع کی تھیں جوصارفین کی پرائیویسی کے حقوق کی سراسرخلاف ورزی تھی۔
10اگست2013ء میں جاری ہونے والی جرمن جریدے کی رپورٹ کے مطابق امریکی قومی سلامتی سے متعلق خفیہ ایجنسی این ایس اے نے بیرونِ ممالک اپنے جاسوسی پروگرام میں یورپی ممالک کوسرِ فہرست رکھاہواہے جبکہ چین،روس ،ایران پاکستان اورشمالی کوریاکی نگرانی سب سے اہم ہدف قراردیاہے۔امریکی اہداف میں فرانس، جرمنی اورجاپان کی نگرانی کودرمیانے درجے میں رکھاگیاتھا۔2ستمبر2013کوعالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے نے برازیل اور میکسیکو کے صدورکی بھی خفیہ نگرانی کی تھی اوران کے آن لائن ڈیٹاتک رسائی حاصل کی تھی۔مذکورہ معلومات عام ہونے کے بعدبرازیل کی حکومت کی جانب سے امریکاکے اس عمل کی شدیدمذمت کی گئی ۔اس تمام صورتحال کوپیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امریکی حکومت وانتظامیہ اپنے مفادات کوتحفظ دینے کیلئے نہ تواپنے شہریوں کے حقوق کاخیال رکھتی ہے اور نہ ہی دنیاکے کسی قوانین کی پرواہ کی جاتی ہے۔امریکااپنی من گھڑت اطلاعات کی بنیادپرافغانستان،عراق اوردنیاکے تین درجن سے زائدممالک کووحشیانہ ظلم وستم کی جنگی کاروائیوں کانشانہ بناچکاہے اوراب دنیاکی دوسری اقوام کی ذاتی زندگی کوبھی اجیرن بنارہاہے جس کے نتیجے میں امریکی پالیسیاں دنیاکی سلامتی پرایک سوالیہ نشان بن چکی ہیں ۔ اس لئے امریکی حکومت کی طرف سے ایرانی صدرکے سرکاری دورے سے دودن قبل پاکستانی وزارتِ خارجہ میں امریکی مقاصدکی تکمیل کیلئے ملاقاتیں اورسازشیں شروع ہوچکی ہیں اورعین ان دنوں میں جب اسرائیل کی وحشیانہ کاروائیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان تمام ممالک کوخوفزدہ کرکے اپنے مقاصدکی تکمیل کے ایجنڈے پرکام شروع ہوچکاہے جس کیلئے نہ صرف پاکستان کو تنہاکرنے کیلئے ٹرائیکاسرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے بلکہ پابندیوں کاعمل بھی شروع کیا جاچکا ہے۔ان کوعلم ہے کہ پاکستان دنیاکی واحد ایٹمی قوت ہے جس کی نیوکلیئرصلاحیت کو معاشی پابندیوں کے ساتھ اس قدربے بس کردیا جائے کہ جس کے بعدمنحوس ’’ون ورلڈآرڈر‘‘کے منصوبے کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
ویسے بھی امریکی حکومت کی طرف سے یہ پابندی کاعمل کوئی پہلاواقعہ یاایساکوئی نیابھی نہیں،پاکستان نے 1970 ء میں جونہی اپنے ایٹمی پروگرام کوشروع کرنے کااعلان کیا،تب سے ہی یہ مذموم سلسلہ جاری ہے بلکہ خوداس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکوہنری کسینجرنے اپنے دورہ لاہورپاکستان میں عبرت کانشان بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ایسی کڑی پابندیاں اکتوبر 2003ء میں بھی ہم بھگت چکے ہیں جب امریکانے پاکستان کوبیلیسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اورسامان فراہم کرنے والی 3چینی کمپنیوں سمیت دنیابھرکی بے شمارکمپنیوں پراسی الزام میں پابندیاں عائدکی تھیں لیکن اس تمام غنڈہ گردی کے باوجودآج پاکستان ایک ایسی ایٹمی قوت ہے جس کے خوف میں ٹرائیکااپنے تمام اتحادیوں سمیت ان سازشون میں مصروف ہے۔
یادرکھیں!رب ذوالجلال نے انسانی جسم میں ایک ایساچھوٹالوتھڑا’’دل‘‘کی شکل میں نصب کررکھاہے کہ جہاں صرف ایک خوف سماسکتا ہے۔اللہ اوردنیاوی طاغوتی قوتوں کے خوف یکجا نہیں رہ سکتے،اگردنیاکوخوف دل میں بیٹھ گیاتواللہ کاخوف چپکے سے نکل جائے گاکیونکہ میرے رب کاخوف بڑاباغیرت ہے اوردنیاآپ کوخوب رسوابھی کرے گی اورتذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی لیکن اگردل میں اللہ کاخوف براجمان کرلیاجائے توساری دنیاآپ سے خوفزدہ رہے گی اورکوئی آپ کوخوفزدہ کرنے کی جرأت نہیںکرسکتا۔ اپنے اکابرین کی تاریخ اس پرشاہد ہے کہ مٹھی بھرمسلمانوں نے اللہ کے خوف کواپنے دلوں کی جب زینت بنایاتوپانی پربھی گھوڑے دوڑانے میں بھی کوئی دقت محسوس نہیں ہوئی اور آج خودمستشرقین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگرمسلمانوں کی تاریخ میں حضرت عمر کو مزیدموقع مل جاتایااس کے بعدایک اورعمرحکمران ہوتا توساری دنیاپراسلام کاغلبہ ہوتا۔سونابھی آگ میں تپ کرکندن بنتاہے۔ ہمت اورحوصلے کی ضرورت ہے۔اگرآپ کی ٹانگیں ابھی کانپ رہی ہیں توسوچ لیں کہ کل کامؤرخ آئندہ نسل کوآپ کے بارے میں سب حقیقت توضروربتادے گا۔دنیاوآخرت کی نفرین اورشرمندگی سے بچنے اور پناہ مانگتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلوں کی ضرورت ہے۔
تجھے کیا ناصحااحباب خودسمجھائے جاتے ہیں
ادھرتوکھائے جاتاہے،ادھروہ کھائے جاتے ہیں
چمن والوں سے جاکراے نسیم صبح کہہ دینا
اسیران قفس کے آج پرکٹوائے جاتے ہیں

یہ بھی پڑھیں