Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مودی کاجنگی جنون اورتعصب

بھارت جب سے چین سے بری طرح شکست کھاکرذلیل ورسواہواہے تواس دن سے ایسے جنگی جنون میں مبتلاہوچکاہے کہ ہرسال اپنے بجٹ میں اپنے غریب عوام کی بھوک وافلاس کوختم کرنے اور فلاح کے بارے میں کوئی اقدامات کرنے کی بجائے ملک میں اسلحے کے انبارلگانے میں بری طرح غرق ہے اوراب ایک مرتبہ پھرخطے کے تمام پڑوسی ممالک کو اپنے زیرِدست لانے کے مصنوعی اورجھوٹے خواب دیکھنے کی بیماری میں مبتلاہوچکا ہے لیکن ہربارمنہ کی کھاکراس کی اسلحہ جمع کرنے کی ہوس بڑھتی جارہی ہے۔متعصب ہندومودی سرکار کی یہ ہوس کوئی نئی نہیں بلکہ برسوں سے یہ اپنی قوم کو خطے میں اکھنڈبھارت کی توسیع کاخواب دکھاکر اپنے اقتدارمیں رہنے کاجوازڈھونڈتے رہتے ہیں ۔صرف6 برس قبل سابقہ بھارتی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے یکم فروری کو2018-19ء کاجوبجٹ پیش کیاتھااس میں دفاع کے لئے 29کھرب 55 ارب 11کروڑروپے مختص کیے تھے۔یوں ایک ہی نشست میں دفاعی بجٹ میں 81.7 فیصدکا اضافہ کردیاگیاجبکہ گزشتہ بجٹ میں 27کھرب 41 ارب14کروڑروپے رکھے گئے تھے، یوں سالانہ اضافہ دوکھرب13 ارب روپے کابوجھ لاددیاگیا۔ارون جیٹلی نے8کروڑغریب لوگوں کومفت کنکشن دینے کااعلان بھی کیاتھا،پہلے بھی اس سکیم کا اعلان کیاگیاتھالیکن جن نمائشی خاندانوں کومفت گیس سلنڈردیئے گئے تھے،ان کی تعدادنہ ہونے کے برابرتھی جبکہ ان غریب خاندانوں کے پاس بھی سلنڈردوبارہ گیس بھروانے کے پیسے نہیں تھے گویایہ ڈرامہ ایک انتخابی دھوکہ ثابت ہوا۔
اسی طرح2016ء میں بھی بی جے پی حکومت نے مفت انشورنس کااعلان کیاتھالیکن اس پرآج تک عملدرآمدنہیں ہوسکا۔ملک کی موجودہ وزیر خزانہ نرملاسیتارمن نے بھی اپنے پیشروؤں کے طرزِعمل کوجاری رکھاہواہے اورسابق بجٹ کی طرح اب تک کسی بجٹ میں غریبوں،کسانوں اوردیہی معیشت پرآج تک کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ دولت مندطبقوں اور بڑی کمپنیوں کو سہولتیں اوررعائتیں دی گئیں جواب تک جاری ہیں جس کی وجہ انتخابات میں اس مالدارطبقے کی حمائت اورمالی اعانت کے لئے ہے جبکہ دوسری طرف اس غریب ملک جہاں کروڑوں افرادایک وقت کی روٹی اورسرچھپانے کی چھت سے محروم ہیں،وہاں اپنے جنگی جنون کی تکمیل کے لئے اپنے دفاعی بجٹ میں 621،54028 کروڑمختص کردیئے گئے جوگزشتہ برس سے71/4 فیصد زیادہ ہے۔
تنخواہ دار،ملازمت پیشہ،متوسط طبقہ کونہ صرف نظرکردیاگیابلکہ ان پرٹیکس کابوجھ بڑھادیاگیاہے، یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویداربی جے پی حکومت کابجٹ ہے جہاں کروڑوں مفلس اوربے گھر لوگ بڑے شہروں کے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں جبکہ ان کے جنگی جنون کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں، آسام،ناگالینڈ وغیرہ میں مقامی حریت پسندوں کوکچلنے میں مصروف رہتی ہیں،اس سے دفاعی بجٹ میں ہرسال اضافہ کیاجاتاہے۔
بھارت نے اپنے ہاں بڑے پیمانے پرڈیفنس انڈسٹری قائم کررکھی ہے تودوسری طرف امریکا، اسرائیل ،روس اورمغربی ممالک سے بھی جدیدترین اسلحہ اوردفاعی ٹیکنالوجی درآمدکر رہاہے۔جنوبی ایشیاکے ہمسایہ ممالک خصوصا پاکستان پراپنی فضائی حملے کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے روس سے سخوئی ایس30،اورایم کے1طیارے،فرانس سے میراج200 ، برطانیہ سے جیگوارطیارے’’ٹی یو22 این سیکفائٹر‘‘بمباروں کے علاوہ فرانسیسی رائل طیارے خریدرہاہے۔پچھلی دہائی میں بھی بھارت امریکا سے ایف سولہ بمبار،گائیڈڈبمبار، برطانیہ سے جیگوارطیارے،فرانس سے36رافیل طیارے،چھ اسکارپین آبدوزیں،فضاسے فضامیں مارکرنے والے میزائل اور126کثیرالمقاصد میڈیم لڑاکا طیارے خریدچکا ہے،2006میں بھارتی دفاعی ادارے ’’ڈی آرڈی او‘‘نے ایک روسی ادارے سے مل کر براہموس کروزمیزائل تیارکیاتھاجوآوازسے تیزرفتارسپرسانک میزائل ہے جس میں روسی پروپلشن ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے۔اسرائیل نے بھی بھارت کوالیکٹرانک وارنیٹر ٹیکنالوجی اورپرسپیشن گائیڈڈاسلحہ فراہم کیاہے اور اب بھی درپردہ یہ سلسلہ جاری ہے۔
رائٹرمیں23 فروری2024ء میں ایک ہندو دفاعی تجزیہ نگار’’کرشن کوشک‘‘کاایک مضمون شائع ہواجس میں اس نے اسرائیلی ذریعے سے یہ انکشاف کیاکہ اسرائیل کی بھارت کو فوجی برآمدات،جواس کاسب کاسب سے بڑادفاعی خریدارہے،غزہ کی جنگ سے بھی متاثرنہیں ہوا۔بھارت نے گزشتہ دہائی کے دوران اسرائیل سے2.9 بلین ڈالر مالیت کا ملٹری ہارڈویئر درآمدکیاہے،جس میں ریڈار،نگرانی اورجنگی ڈرون اورمیزائل شامل ہیں۔علاوہ ازیں جب سے غزہ میں خونی کھیل شروع ہوا ہے،ایک ہزارسے زائد انڈین ہندو اس خونخوارجنگ میں غزہ کے معصوم اوربے گناہ مسلمانوں کے قتل وغارت میں شریک ہیں۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق،بھارت دنیاکاسب سے بڑاہتھیار درآمد کرنے والاملک ہے،جس نے2012ء سے2022 ء کے درمیان37بلین ڈالرکی خریداری کی۔امریکہ،روس اور چین کے بعدبھارت دنیاکاچوتھابڑااسلحہ کاخریدارہے جس کے دفاعی اخراجات81.4بلین ڈالرتک پہنچ گئے ہیں۔ابھی حال ہی میں انڈیا نے اپنی مسلح فوج کی جنگی صلاحیتوں کوبڑھانے کے لئے 39,125 کروڑ روپے کے پانچ بڑے دفاعی حصول کے لئے آرڈردے دیاہے جس میں برہموس سپر سونک کروزمیزائل، راڈار ، ہتھیاروں کے نظام اورمگ 29طیاروں کے لئے ایروانجن شامل ہیں۔
حالیہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 6مارچ 2024ء کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی سال 2024-25ء میں ہندوستان کادفاعی بجٹ 6,21,540.85 کروڑروپے تک پہنچ گیاہے۔ مالی سال24-25کے لئے دفاع کے لئے مختص کردہ بجٹ مالی سال2022-23ء کے لئے مختص کردہ رقم سے تقریباًایک لاکھ کروڑ 18.35فیصد زیادہ اور مالی سال23-24 کے لئے مختص کیے گئے بجٹ سے4.7 فیصد زیادہ ہے ۔ بھارت اپنے دفاعی صنعتی اڈے کومضبوط کرنے کی مسلسل کوششوں کے باوجوددنیا کے سب سے بڑے ہتھیاردرآمد کرنے والے ملک کااعزازبرقراررکھے ہوئے ہے۔ 2019اور 2023ء کے درمیان،ملک نے اسلحے کی کل عالمی درآمدات کانمایاں9.8 فیصدحصہ لیا،جواس کی دفاعی خریداری میں اسٹریٹجک کمزوری کی عکاسی کرتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں