(گزشتہ سے پیوستہ)
روس بھارت کوہتھیاروں کاسب سے بڑا فراہم کنندہ بناہواہے،جواس کے ہتھیاروں کی36فیصد درآمدات کرتاہے۔تاہم اب پچھلے چند برسوں سے روس کامجموعی حصہ مسلسل کم ہو رہاہے جبکہ بھارت تیزی سے فوجی ہارڈویئراورسافٹ ویئرکے ساتھ ساتھ مقامی سپلائرزکے لئے مغربی ممالک کی طرف اپنارخ کرچکاہے ۔بھارت اسرائیل اسلحے کی تجارت سالانہ 3ارب ڈالرہے۔2007ء میں بھارت نے امریکہ کو ایمنی بیئس ٹرنس ڈاک شپ کے لئے پانچ کروڑڈالر اداکیے جوگودی کاکام دیتاہے۔ بھارت اپنی بحری جنگی صلاحیت میں بھی کئی گنااضافہ کرچکاہے۔ ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی غازی آبدوزنے بھارتی طیارہ بردارجہازوکرم کوبمبئی کی بندرگاہ سے نکلنے نہیں دیاتھا۔اس وقت بھارت کے پاس کوئی آبدوزنہیں تھی لیکن اب بھارتی بحریہ چارایٹمی آبدوزوں،16ڈیزل الیکٹرانک آبدوزوں کے علاوہ چارمزید آبدوزوں کواس بیڑے میں شامل کرنے کے لئے شب وروز کام کررہی ہے۔اس نے روسی ایٹمی آبدوزسے لیس ایک بحری اسٹرائیک فورس بھی تیارکرلی ہے۔پاکستان نے بھی اس کے جواب میں اپنی بحریہ کوجدیدایٹمی اسلحے ’’حربہ میزائلــ‘‘ سے لیس کردیاہے جوبھارت کے بعیدترین جزائرانڈیمان اوربھارتی سرزمین کے ہرایک انچ کونشانے پرلے رکھاہے۔
امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے بھارت کوجدیدترین ڈرون ٹیکنالوجی بھی فراہم کی جارہی ہے اورنیول ڈرون طیارے فراہم کرنے کامعاہدہ بھی کیاجاچکاہے لیکن پاکستانی نصر اور ابدالی میزائلوں نے بھارتیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔بھارتی رویہ اور جنگوں کے باعث پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے ایٹمی اثاثوں کی جدت میں بعض ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کرلی ہیں۔پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں کی نوعیت اورافادیت بھی اسی نوعیت کی ہے جس نوعیت کے جدیدایٹمی ہتھیار امریکااورروس کے درمیان ایٹمی دوڑکا موضوع ہیں۔بھارت کوپاکستان کے ان جدید اورپاورفل ایٹمی ہتھیاروں کے ہاتھوں بڑی پریشانی کاسامناہے اوربھارت کے ایماپرہی واشنگٹن پاکستان کے ان چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے پاکستان پردبا ؤڈالتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فاکس نیوزجوکہ بالعموم عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف زہراگلنے میں پیش پیش رہتاہے اوراکثر عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کے بحث مباحثے کے ذریعے نفسیاتی برتری سے ڈرانے اوردہمکانے کاکام لیتارہتاہے،اس نے بھی بھی اعتراف کیاہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان خطے میں روس اورچین کے ابھرتے ہوئے نئے پاوربلاک میں برابرکاتیسرافریق ہے اورایٹمی طاقت کے حوالے سے بھی پاکستان بھارت کوبہت پیچھے چھوڑچکاہے۔لیکن اس کے باوجودہمارے ہاں دن رات پاکستان کے دفاعی بجٹ پرطعنہ زنی کرتے رہتے ہوئے بھارتی دشمن کی مثالیں دیکرخوفزدہ کرنے کی ناکام کوششوں میں مبتلاہیں۔
18جنوری2024 ء کی اس مصدقہ رپورٹ پربھی غورکرلیں کہ2023-24ء کے بجٹ میں بھارت نے اپنے بجٹ کا13فیصددفاع کیلئے6ٹریلین روپے(تقریباً 74ًًبلین ڈالر)مختص کیاجبکہ پاکستان کادفاعی بجٹ6بلین ڈالرہے۔یہ بھی یادرکھیں کہ پاکستان کی فوج کے مقابلے میں بھارت کے پاس 8لاک فوجی بھی زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجوداس کوہرمرتبہ پاکستان سے چھیڑخانی نہ صرف مہنگی پڑی بلکہ دنیاکے سامنے شرمندگی بھی اٹھانی پڑی۔
ایک پروگرام میں انتہائی زیرک اورتجربہ کاردفاعی تجزیہ نگاریہ کہنے پرمجبورہوگیاکہ پاکستان دنیا کا واحدملک ہے جس نے دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی اور ملٹری ایکسپرٹس کوباقاعدہ بلاکران کے سامنے اپنے حساس ہتھیاروں کے نہ صرف کامیاب تجربات بلکہ ان کی سوفیصدٹھیک نشانے کامظاہرہ کرکے ساری دنیا کوورطہ حیرت میں مبتلاکردیاہے اور اس میدان میں پاکستان کی برتری کادوسراکمال یہ ہے کہ اس جدیدترین ٹیکنالوجی مہارت میں وہ مکمل خودکفیل بھی ہے اوران تمام ایٹمی میزائل ٹیکنالوجی کے علاوہ ہرقسم کے ہتھیاروں میں اب کسی ملک کامحتاج نہیں رہا۔ پاکستان نہ صرف ہر قسم کے جدیدہتھیارخود بنانے کی مکمل صلاحیت میں خودکفیل ہوچکاہے بلکہ اب کئی ممالک پاکستان کوجدیدترین اسلحے کاآرڈربھی دے چکے ہیں لیکن ہمسایہ ملک بھارت ابھی تک امریکا،اسرائیل، فرانس،برطانیہ اوردیگرممالک سے اسلحہ خریدنے پرسالانہ اربوں ڈالرخرچ کرنے کے باوجود خوف اوربزدلی کے عالم میں پہلے روس اور اب امریکا کی چھتری کے نیچے بیٹھاخطے کے تمام ممالک پر اپنی برتری کی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کرتا رہتاہے لیکن اب کئی دانشورمودی کواس جنون و خودکشی سے بچنے کیلئے مسئلہ کشمیرکوحل کرنے کی طرف توجہ دلانے میں مصروف ہیں جس میں سب سے توانا آواز ارون دھتی کی ہے جبکہ مودی حکومت امریکاکی آشیربادسے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کشمیرکی خصوصی حیثیت کوختم اور بھارت کاحصہ ڈکلیئر کرکے یہ مسئلہ حل کرلیاہے۔ اگرایساہے توکیا انڈیا نے اپنے کسی اور علاقے میں بھی 8لاکھ سے زائدفورسزکو متعین کررکھا ہے؟
ادھردوسری طرف اب انڈیامیں عام انتخابات کاپہلامرحلہ19 اپریل سے شروع ہوچکاہے اورابھی تک بھارتی عوام اورماہرین مودی کی مکارانہ پالیسیوں اورمسلم دشمن متعصب بیانات پرحیران وپریشان ہیں کہ ہرمرتبہ انتخابات کے موقع پراپنی روایتی مکاری کے ساتھ پاکستان اورہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف اپنی انتخابی تقریروں میں واویلاکیاجارہاہے تاکہ ہندوؤں کے مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکاکر دوبارہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جائے۔اس کی واضح مثال حال ہی میں مودی نے راجستھان کے معرف علاقے پشکرمیں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے2024ء انتخابی منشور کومسلم لیگ سے متاثرمنشورقراردیتے ہوئے دہائی دیناشروع کردی ہے کہ انڈیا کوایک مرتبہ پھرتقسیم کرنے کی سازشیں شروع ہوگئیں ہیں اورکانگرس کے منشورسے ایک مرتبہ پھرمسلم لیگ کے ان نظریات پربھارت پرتھوپناچاہتی ہے جس سے بھارت کے کئی ٹکڑے ہونے کی بوآرہی ہے اوریہ ایک مرتبہ پھرزیادہ بچے پیداکرنے والی بھارتی اقلیت مسلمانوں کو ہندوؤں پرغالب کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔(جاری ہے)