Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مودی کاجنگی جنون اورتعصب

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان نہ صرف ہر قسم کے جدیدہتھیارخود بنانے کی مکمل صلاحیت میں خودکفیل ہوچکاہے بلکہ اب کئی ممالک پاکستان کوجدیدترین اسلحے کاآرڈربھی دے چکے ہیں لیکن ہمسایہ ملک بھارت ابھی تک امریکا،اسرائیل، فرانس،برطانیہ اوردیگر ممالک سے اسلحہ خریدنے پرسالانہ اربوں ڈالرخرچ کرنے کے باوجود خوف اوربزدلی کے عالم میں پہلے روس اور اب امریکا کی چھتری کے نیچے بیٹھاخطے کے تمام ممالک پر اپنی برتری کی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کرتا رہتاہے لیکن اب کئی دانشورمودی کواس جنون و خودکشی سے بچنے کیلئے مسئلہ کشمیرکوحل کرنے کی طرف توجہ دلانے میں مصروف ہیں جس میں سب سے توانا آواز ارون دھتی کی ہے جبکہ مودی حکومت امریکاکی آشیربادسے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کشمیرکی خصوصی حیثیت کوختم اور بھارت کاحصہ ڈکلیئر کرکے یہ مسئلہ حل کرلیاہے۔ اگرایساہے توکیا انڈیا نے اپنے کسی اور علاقے میں بھی 8لاکھ سے زائدفورسزکو متعین کررکھا ہے؟
ادھردوسری طرف اب انڈیامیں عام انتخابات کاپہلامرحلہ19 اپریل سے شروع ہوچکاہے اورابھی تک بھارتی عوام اورماہرین مودی کی مکارانہ پالیسیوں اورمسلم دشمن متعصب بیانات پرحیران وپریشان ہیں کہ ہرمرتبہ انتخابات کے موقع پراپنی روایتی مکاری کے ساتھ پاکستان اورہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف اپنی انتخابی تقریروں میں واویلاکیاجارہاہے تاکہ ہندوؤں کے مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکاکر دوبارہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جائے۔اس کی واضح مثال حال ہی میں مودی نے راجستھان کے معرف علاقے پشکرمیں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے2024ء انتخابی منشور کومسلم لیگ سے متاثرمنشورقراردیتے ہوئے دہائی دیناشروع کردی ہے کہ انڈیا کوایک مرتبہ پھرتقسیم کرنے کی سازشیں شروع ہوگئیں ہیں اورکانگرس کے منشورسے ایک مرتبہ پھرمسلم لیگ کے ان نظریات پربھارت پرتھوپناچاہتی ہے جس سے بھارت کے کئی ٹکڑے ہونے کی بوآرہی ہے اوریہ ایک مرتبہ پھرزیادہ بچے پیداکرنے والی بھارتی اقلیت مسلمانوں کو ہندوؤں پرغالب کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔
مودی کے متعصبانہ بیان سے یہ واضح ہورہاہے کہ گجرات میں مسلم کش فسادات میں ایک قصائی کے طورپرابھرنے والے ہندو مہاسبھائی کے چہرے سے اقلیتوں کے بارے میں اس کا چہرہ بے نقاب ہوگیاہے کہ وہ اب کانگریس کے منشورکومسلم لیگ کی چھاپ والا منشور اس لئے کہہ رہا ہے کہ اس نے پاکستان کے وجودکوابھی تک دل سے تسلیم نہیں کیاجبکہ اس کے برعکس تاریخ تویہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کی ماں ہندومہاسبھانے 1940 ء کی دہائی میں سندھ،بنگال،این ڈبلیو ایف پی میں مسلم لیگ کے ساتھ حکومت سازی کی تھی اوراس سے قبل لکھنومیونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں میئرشپ کیلئے مسلم لیگ اورہندومہاسبھانے ہاتھ ملائے تھے۔
کیونکہ کانگریس نے پہلی مرتبہ اپنے مینیفیسٹو (منشوریانیائے پتر)میں واضح اندازمیں کھلے عام بہادری کے ساتھ دوتین باتوں کو رکھ دیاہے جس پرعام طورپرگزشتہ انتخابات میں ہچکچاہٹ نظرآتی تھی۔کانگرس کے مطابق وہ مساوات، سوشل جسٹس اوراقلیتی حقوق کی حفاظت کریں گے۔کون نہیں جانتاکہ خودکودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کاجھوٹانعرہ بلند کرنے والی مکار مودی سرکارنے مسلمانوں کواچھوتوں سے بھی بدتربنا کر رکھ دیاہے اوریہ ایک حدتک سچ بھی تھاکہ بہارکی راشٹریہ جنتادل اوراترپردیش کی سمواج وادی جیسی پارٹیاں جو صرف اپنی ذات اورمسلم ووٹ پرمنحصررہی ہیں وہ بھی مسلمانوں کے مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیارکئے ہوئے تھیں اورہندوتوا کے ایجنڈے کے سامنے پست ہوگئی تھیں اورکہیں نہ کہیں وہ اس میں شامل ہوگئی تھیں لیکن اب پہلی مرتبہ کانگریس نے اپنے منشورمیں دلتوں، قبائیلیوں اوراقلیتوں بلکہ سب کیلئے اہم سکیمیں اورٹھوس پلان دیاہے جس کوانڈین بوزیرخزانہ نرملاسیتارمن نے بھی کانگریس کے منشورکو بظاہرقابل عمل اورحقیقت پرمبنی قراردیتے ہوئے اپنی جماعت کوبھی ایسے فلاحی پلان کی طرف متوجہ کرتے ہوئے بالخصوص مسلم اقلیت کے خلاف بیجا پروپیگنڈہ کوانتخابی کمزوری سے تشبیہ دیتے ہوئے اس سے گریزکامشورہ دیاہے۔
مودی اس طرح کے بیانات پہلے بھی دے چکاہے، جب وہ ریاست گجرات کاوزیراعلی تھا۔2002ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات کے چند مہینوں بعدہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخاباتی مہم کے دوران اس نے ایک جلسہ کے حاضرین سے پوچھا کہ کیا سرکارکو’’ریلیف کیمپ چلاناچاہیے؟کیاہمیں بچے پیداکرنے کے مراکز کھولنے چاہیں؟ــہم یہاں سختی سے خاندانی منصوبہ بندی کونافذکریں گے تاکہ ہم پانچ کے مقابلے میں یہ پچیس تک نہ پہنچ سکیں‘‘۔مسلم اقلیت کوانڈیامیں اکثراس لئے دقیانوسی سمجھاجاتاہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں لیکن خودبھارتی تجزیہ کاراورماہرین کاکہناہے کہ یہ دعویٰ مسخ شدہ ہے اورمسلمانوں کے خلاف متعصبانہ سلوک کی وجہ بناہواہے۔حقیقت یہ ہے کہ حکومتی اعدادوشمارکے مطابق مسلمانوں کی آبادی کی شرح میں ہندوؤں سے زیادہ تیزی سے کمی ہورہی ہے بلکہ 2011ء کی مردم شماری کے اعدادوشمارکے مطابق مسلمانوں کی شرح نموانڈیامیں دیگر پسماندہ گروپوں سے ملتی جلتی ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مودی کے یہ بیہودہ بیانات نہ صرف جھوٹ پرمبنی ہیں بلکہ انتخابات جیتنے کیلئے وہ کسی بھی حدتک مکاری سے کام لیتے ہیں۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم جلدازجلدپاکستان میں سیاسی پختگی کاثبوت دیتے ہوئے موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کی کوشش کریں۔ہم اس فرسودہ نظام کوپچھلے77سالوں سے آزماکرہرمرتبہ ناکام ونامرادہوچکے ہیں۔کبھی اس ملک کوجمہوریت کے نام پرلوٹاگیاہے اورکبھی اس کرپشن سے نجات دلانے والوں نے اقتدارکے نشے میں ملکی دولت کوبے رحمی سے لوٹ کرغیر ممالک میں اپنے محلات اورکاروبارکی ایمپائرقائم کرکے ملک کوقرضوں کے بوجھ تلے ڈبودیاہے۔کیااب وقت نہیں آیاکہ ہم اپنے رب سے جس وعدے کی بنیاد پریہ ملک حاصل کیاتھا،ایفائے عہدکرتے ہوئے سچے دل کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے وطن عزیزمیں قرآن کے نفاذکااعلان کریں۔یقین کریں جس دن ہم نے اپنے رب کے ساتھ کئے وعدوں کی پاسداری کیلئے پہلا قدم اٹھایا،اسی دن نہ صرف ملک سے منحوس سایوں سے نجات ملے گی بلکہ پڑوس میں بھی مسلم آبادی کوایک مضبوط سہارا میسر آجائے گا۔اس سلسلے میں میں آپ سے ایک واقعہ شئیرکرناچاہتاہوں تاکہ آپ کومعلوم ہوکہ بھارت میں بسنے والی مسلم اقلیت ہم سے کیاچاہتی ہے۔
امسال جنوری کے آخرمیں اللہ کی دی ہوئی توفیق سے حرمین جانے کی سعادت حاصل ہوئی، مسجدنبویؐ میں نمازِعصرکے لئے بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ساتھ میں بیٹھاراجستھان انڈیا کے ایک مسلمان بھائی نے مجھے اورمیرے ساتھ برادرم جناب جنرل(ر)غلام مصطفی کوپہچانتے ہوئے بڑی دردبھری فریادسے مخاطب کرتے ہوئے کہا:خدارا!میری ایک التجا ہے جومیں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ملک کے تمام شہریوں کوضرورپہنچائیں کہ پاکستان توآپ نے بنالیالیکن تمام پاکستانی ہندوستان میں چھوڑگئے ہیں۔ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے بس آپ پاکستان کواتفاق اورمحبت سے جس قدرمضبوط کریں گے،اسی قدربھارت میں ہمارے مصائب ختم ہوں گے کہ اب توہماری جان ومال کے ساتھ ساتھ ہماری عزتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔اس کایہ پیغام اب تک میرے دل کی دھڑکنوں کوبے ترتیب کردیتاہے!

یہ بھی پڑھیں