کرکٹ ایسا کھیل ہے جو گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے مابین کھیلا جاتا ہے۔یہ کھیل گیند اور بلے کا مرہون منت ہوتا ہے۔کرکٹ کا میدان بیضوی شکل کا ترتیب دیا جاتا ہے۔میدان کے عین وسط میں 2،2 گز کا مستقر بنا ہوتا ہے۔عرف عام میں جسے پچ کہتے ہیں۔پچ کے دونوں جانب تین،تین وکٹیں نصب کی جاتی ہیں۔جن کے اوپر دو دو بیلز رکھی جاتی ہیں۔کھیل کا آغاز ٹاس کے ذریعے ہوتا ہے۔جو کپتان ٹاس جیت جاتا ہے۔وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کی ٹیم نے بیٹنگ کرنی ہے،یا فیلڈنگ؟ یا پھر دوسری ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دینی ہے۔کرکٹ کے اپنے قوانین ہیں جو بین الاقوامی طور پر مانے اور تسلیم کئے جاتے ہیں۔دنیا کی تمام ٹیمیں اِن رولز کی پابند ہوتی ہیں جو اِن رولز کی خلاف ورزی کرتا ہے،کرکٹ کی عالمی آرگنائزیشن اس ٹیم پر کوئی بھی جرمانہ یا پابندی عائد کر سکتی ہے۔ٹیموں پر عالمی رولز کی پابندی لازم ہے۔ماضی میں جو کرکٹ میچ ہوتے تھے وہ ٹیسٹ میچ کہلاتے تھے اور پانچ روزہ ٹیسٹ میچوں پر مشتمل ہوتے تھے۔جو شائقین کرکٹ پانچ روز تک کرکٹ کے میدان میں یا پھر ٹی وی پر دیکھتے تھے لیکن جوں جوں وقت گزرا،حالات میں تبدیلی اور تیزی آئی۔آئی سی سی نے بھی اپنے رولز تبدیل کر لئے۔کرکٹ کو پانچ روزہ ٹیسٹ میچوں سے ون ڈے پر لے آئے۔اس کے بعد 20 اوور کے میچ ہونے لگے جو ٹی 20 کہلائے۔ اس طرح کرکٹ نے بہت سی شکلیں بدلیں اور بہت سے نامور کرکٹر پیدا کئے۔ کرکٹ کا پرانا دور اتنا آسودہ نہیں تھا۔نامور کرکٹر پریکٹس میچ کے لیئے اکثر لاہور کی جناح گرائونڈ میں سائیکل پر آیا کرتے تھے۔
ایک سینئر صحافی نے واقعہ سنایا فضل محمود جو ماضی کے نامور کرکٹر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان تھے۔اکثر سائیکل پر جناح گرائونڈ آتے جبکہ ان کے ساتھ مدثر نذر کے والد مشہور ٹیسٹ کرکٹر نذر محمد بھی براجمان ہوتے۔ ان کرکٹرز کو واجبی سے پیسے ملتے تھے جن سے بمشکل گزارہ ہوتا چونکہ کرکٹ کا کریز تھا اس لئے پاکستان کو دنیا میں اونچا مقام دلانے کے لئے وہ پوری محنت اور انتھک جدوجہد کرتے انہیں کم معاوضے کی بھی کوئی پرواہ نہ ہوتی۔کرکٹ کی تاریخ دیکھیں تو ماضی گواہی دے گا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا کی بڑی بڑی ٹیموں کو عالمی میدانوں میں عبرتناک شکستوں سے دوچار کیا۔ پاکستان کے لئے جیت اور کامیابی سمیٹی۔ تاہم پچھلی دو دہائیوں سے کرکٹ کا جوحال ہوا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں،پاکستان کرکٹ بورڈ قوم کا اربوں روپیہ کرکٹرز،کوچز اور اپنے اوپر خرچ کرتا ہے لیکن حصے میں ناکامیاں ہی آتی ہیں۔اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود ٹیم وہ نہیں کر پاتی جس کی توقع قوم ان سے رکھتی ہے۔کرکٹ ٹیم کے لئے ایک مشہور نغمہ اکثر سننے کو ملتا ہے ہمیں تم سے پیار ہے لیکن کرکٹ کے ان شہزادوں کی کرکٹ کے میدانوں میں کارکردگی صفر اور ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
قوم،بورڈ اور ٹیم پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرتی ہے لہٰذا سوال کرنے کا حق بھی انہیں حاصل ہے کہ وہ پوچھیں جس ملک کے 80 فیصد لوگ خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہوں اسی عوام کے اربوں روپے کا بورڈ اور کرکٹ ٹیم کیا صلہ دیتے ہیں۔ بورڈ اور ٹیم کی جو کارکردگی ہے وہ قطعی حوصلہ افزا نہیں۔حالیہ کچھ عرصے میں معمولی سی ٹیم کے سامنے بھی اپنی ٹیم کو رسوا اور ڈھیر ہوتے دیکھا ہے ہم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہم دنیا کی مانی ہوئی ٹیم ہیں۔ماضی میں ہمارے کرکٹرز کا ذکر زبانِ زدِ عام رہا تھے۔لوگ جاوید میاں داد،عمران خان،سلیم ملک،مدثر نذر،آصف اقبال،سرفراز نواز اور عبدالقادر جیسے کھلاڑیوں کو ابھی تک نہیں بھولے۔یہ میدان میں اترتے تھے تو رنزوں کے پہاڑ کھڑے کر دیتے تھے۔مشکل حالات میں بھی کریز پر رہ کر دکھاتے کہ مخالف منہ دیکھتے رہ جاتے۔ہمارا چیف سلیکٹر 32 لاکھ کی ماہانہ تنخواہ پر فائز ہے۔اے کیٹیگری کا کھلاڑی 60 لاکھ روپے ماہانہ لیتا ہے۔بی کیٹیگری والے کی تنخواہ 45 لاکھ روپے ہے جبکہ سی کیٹیگری والے کو ماہانہ 17 لاکھ ملتے ہیں۔پاکستانی ٹیم کے گیارہ کوچ ہیں جن میں سے ہر ایک کو ماہانہ 15 سے 20 لاکھ روپے دئیے جاتے ہیں۔دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔سرکاری محکموں کے سربراہان کی تنخواہوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو کرکٹ بورڈ کے حکام اور کھلاڑی ان پر سبقت لیتے نظر آئیں گے۔صدر، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور سپریم کورٹ سمیت چاروں صوبوں کے چیف جسٹسن صاحبان کی تنخواہیں بھی کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔مجھے کرکٹ بورڈ کے حکام اور کھلاڑیوں کی زیادہ تنخواہوں پر اعتراض نہیں۔اعتراض اس بات پر ہے کہ انہیں کارکردگی کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس مقام پر کھڑے نظر نہیں آتے جہاں انہیں ہونا چاہیئے۔ہمارا ہر کھلاڑی کروڑ پتی ہے۔بینک بیلنس اتنا کہ شمار نہیں،بیرون ملک کافی جائیدادیں بھی رکھتے ہیں۔مطالبہ اور اپیل صرف یہ ہے کہ غریب قوم کے اربوں روپے کی قدر کریں۔ایسا کچھ کر دکھائیں کہ قوم ہی نہیں،دنیا بھی داد دینے پر مجبور ہو۔دو سے تین ماہ ہو گئے محسن نقوی نے پی سی بی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے۔چیف منسٹر شپ کے بعد ایک بار پھر اعلی منصب پر متمکن ہوئے ہیں۔نقوی صاحب بہترین صلاحیتوں کے مالک ہیں۔مینجمنٹ کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں ان کے آنے سے امید کی جا سکتی ہے کہ کرکٹ کی حالت کو سدھارنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں گے۔جہاں کوتاہیاں،کمیاں ہیں،جن معاملات پر توجہ دینے اور انہیں سدھارنے کی ضرورت ان پر فوری توجہ ہو گی۔ قوم کی شدید خواہش ہے کہ دنیا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا پھر سے ڈنکا بجے۔ہمارے کھلاڑی دوسری ٹیموں کے لئے ڈر اور خوف کی علامت بن جائیں۔اللہ نے چاہا تو مستقبل قریب میں ہم ایسا ہوتا دیکھیں گے۔