Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مداواضروری ہے

(گزشتہ سے پیوستہ)
ویدک کال میں جنگی جہازوں کااستعمال اس قدیم دورمیں جدیدمیڈیکل سائنس کی کرشماتی سرجری سے بھی زیادہ پیچیدہ آپریشن اوراب یوگاکی اچانک اس قدرتبلیغ الیکشن کے دوران مودی باقاعدہ اعلان کرتے تھے کہ انہیں خودبھگوان نے بھیجاہے تاکہ اس دیش کاکلیان کر سکیں۔
آج سے پچاس سال قبل امریکااوریورپ سے سیاح کثیرتعداد میں بھارت آناشروع ہوئے،اس زمانے میں ہندوعوام سادھوؤں اور سنتوں کوکسی اور دنیاکی مخلوق سمجھتے تھے اوران کو سمجھنے کے لئے ان کے آشرموں میں قیام کرتے تھے۔ان سادھوں، سنتوں کی سیوا کرتے اوربدلے میں تین چیزیں (بھنگ، گانجا اور یوگا)ساتھ لے جاتے۔ان سیاحوں کے لئے رشی کیش ،ہری دوارکے آشرم ہی ٹھکانے تھے جہاں ہندویوگی اورسادھوچلم کے کش کے ساتھ دیگربیہودہ اعمال کی تعلیم دیتے تھے۔ان لوگوں نے امریکااور یورپ میں بھی آشرم قائم کیے اورلوگوں کویوگاکی تعلیم دینے لگے جس سے کروڑوں ڈالرکماتے۔ہندودھرم میں تمام علوم کاسرچشمہ وید ہیں اورویدوں کے عالم اورتخلیق کاروں نے یہ سسٹم ایجادکیا،اس لئے مختلف آسنوں کے دوران مختلف دیوتاؤں سے شکتی اور صحت پرارتھناکی جاتی ہے، ان کی تعریف کی جاتی ہے۔سوریہ(سورج) آسن میں سورج کے سامنے ڈنڈوت کیاجاتاہے۔ منتراور اشلوک پڑھ کران سے مددکی درخواست کی جاتی ہے۔ ظاہرہے کہ مسلمان یوگاتوکرسکتے ہیں لیکن اشلوکوں کے وردسمیت یہ تمام اعمال انجام نہیں دے سکتے جوغیراللہ کی پرستش پرمحمول ہیں مگرسب کے سب مسلمان ہرمذہبی رسم کی تہ تک پہنچتے کی حاجت محسوس نہیں کرتے اوران کی آزاداور غیرجانبدار طبیعت بے حدمضررساں بھی ثابت ہورہی ہے، دوسری طرف مسلمانوں اوردیگر غیر ہندوں کومرتدکرنے کی مہم سونے پرسہاگے کاکام دے رہی ہے۔
جس مذہب میں ہرطاقتورکوخدامان کراس کو سجدے کرناشروع کردیئے جائیں،سواارب کی آبادی کے کروڑوں بھگوانوں کی پرستش کی جاتی ہو،جس مذہب کی اساس گائے کی تقدیس ہواور جوبے شماراوہام اورلایعنی رسوم کامجموعہ ہو،اسے کوئی غیرہندوکس طرح قبول کرے۔یہ وہ لاینحل مسئلہ ہے جوآج کل مودی سرکارمیں ہندوستان کے ان تمام باشندوں کے لئے سوہانِ روح بن گیا ہے جو ہندودھرم پرایمان نہیں رکھتے،اس صورتحال سے بھارت کے عیسائی،پارسی، بدھ مت کے ماننے والے،کیمونسٹ حتی کہ دہریے بھی پریشان ہیں۔اس صورتحال کامحرک ہندوئوں کاروحانی گرومدھویوسداشیو گو لو ا کرہے۔اس نے مودی سرکارکی شہہ پاکراپنانعرہ ہندوراشٹر ابڑی تیزی سے بلند کیا ہے۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پراعلان کررہاہے کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام غیرہندواپنی جان کی امان چاہتے ہیں توہندودھرم اورہندوبودوباش اختیارکرلیں بصورت دیگران کی زندگی ہلاکت کی زد میں رہے گی۔ مدھویوسراشیومدت سے ہندودھرم کاپرچارکررہا ہے۔ وہ تمام مسلمانوں، عیسائیوں، بدھوں،پارسیوں حتی دہریوں کوبھی تاکید کررہاہے کہ ہندوراشٹرکا فلسفہ قبول کرلو کیونکہ ہندوفلسفہ قومیت کی بنیادہے۔
بھارت کے کیمونسٹ ہندوتراشٹراکے فلسفے پرتعجب کااظہارکررہے ہیں۔وہ پوچھتے ہیں کہ اگرمذہب ہی قومیت کی بنیادمان لیا جائے توپھربھارت اورنیپال دونوں ملک ایک ہی دھرم کوماننے والے ہیں،یہ دونوں آپس میں ضم ہوکرایک قوم کیوں نہیں بن جاتے ۔برمااورسری لنکایکساں نوعیت کاایک ہی دستوراختیار کیوں نہیں کرتے؟ اکثرپڑھے لکھے تعصب سے ماورا لوگ ہندودھرم کے تضادات پرحیرت کااظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پروفیسرڈی این جھا،پروفیسر آرایس شرما،رومیلاتھاپراورڈی سی کوسمبی نے مستندتاریخی حوالوں سے لکھاہے کہ ہندوستان کے قدیم برہمن گائے کا گوشت کھایاکرتے تھے جبکہ نیپال کے ہندوتوآج بھی ہرقسم کی خوشی کی تقاریب میں بیل کے گوشت کاپکوان پکاتے ہیں۔ اس صورتحال میں گاؤکشی کے نام پر مسلمانوں کوکیوں قتل کردیاجاتا ہے؟
ہندودھرم کاایک اہم اثاثہ ویدہیں لیکن اس کے متن میں یکسانیت نہیں ہے۔گاندھی اپنی روزانہ کی دعائیہ مجلس میں قرآن کریم،انجیل اورگیتاکے اسباق پڑھاکرتے تھے۔ہرچند ان کایہ عمل مذہبی سے زیادہ سیاسی تھاکیونکہ وہ ہندوستان کے تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک قوم بناناچاہتے تھے۔جسٹس دیپک دوااورمودی بھی گیتاپڑھتے ہیں۔احمدآبادکا شاعر احسان جعفری عالمگیرانسانیت پریقین رکھتا تھا،جواہر لال نہروکاپیروکار تھا۔اس نے زندگی بھرپیرا،گوتم بدھ اورگورونانک جیسے شخصیات کے محاسن پرنظمیں لکھیں لیکن گجرات میں مسلم کش فسادات کے ذمہ دار مودی کے چیلوں نے انہیں بھی نہیں بخشا۔اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اوراس کے گھرکے سارے اثاثہ کو جلاکرخاکسترکردیا۔اسی طرح احمدآبادہی کی ایک مغنیہ رسولاں بائی کاگھربھی جلادیا حالانکہ وہ ہرنغمے کی دھن سے پہلے رام اورکرشن کے نام کاپاٹھ پڑھاکرتی تھی۔
یہ آج کے بھارت کی وہ سرگرمیاں ہیں جنہوں نے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔شدھی یعنی مسلمانوں کوہندوبنانے، مسلمانوں کی بستیاں جلانے اوران کاخون بہانے کی تحریک ہندوستان میں بہت پہلے سے موجودتھی لیکن اب مودی حکومت میں یہ تحریک ایک وبااور بلائے بے اماں کی شکل اختیارکرچکی ہے۔آج خودبھارت میں ہر صاحبِ ضمیرشخص یہ سوال کر رہا ہے کہ کیااب بھارت کاسیکولرآئین اندھااورانسانی حقوق کاکاعالمی منشوراپاہج ہو گیاہے؟کیااب بھارت میں کسی مہذب انسان کواپنے افکارکے مطابق زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں؟
مودی سرکارکی منافقت کایہ عالم ہے کہ سادھوکے بھیس میں جب بھی کبھی امن کے اشلوک دہراتاہے توکوئی بھی یقین کرنے کو تیارنہیں ہوتا۔جنگی جنون میں مبتلامودی کئی مرتبہ یہ ایسے اکھنڈبھارت کانعرہ لگا چکاہے کہ بحرہندکے ساحل پربسنے والاہرملک اکھنڈ بھارت کاحصہ ہے اوردوسری طرف ان کے سرپرست یہودی گریٹراسرائیل کے مبینہ نقشے کی سرحدیں بحرہند سے منسلک دکھائی گئی ہیں۔یہودوہنودکی درپردہ دوستی اب کھل کرسامنے آچکی ہے اورابھی حال ہی میں بھارتی ائیرفورس نے اسرائیل سے ہارڈ ویئر حاصل کرنے کے بعد’’راکس‘‘نامی نیم بیلسٹک میزائل کاتجربہ کیاہے۔ اسرائیل کی طرف سے تیار کردہ راکس سسٹم کی رینج 250کلومیٹرہے اوراسے’’ایس یو30ایم کے جیٹ‘‘کے ذریعے لانچ کیاگیا ہے تاکہ پاکستان کے جوہری مقامات کونشانہ بنایاجا سکے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں