Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مداواضروری ہے

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ آج کے بھارت کی وہ سرگرمیاں ہیں جنہوں نے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔شدھی یعنی مسلمانوں کوہندوبنانے، مسلمانوں کی بستیاں جلانے اوران کاخون بہانے کی تحریک ہندوستان میں بہت پہلے سے موجودتھی لیکن اب مودی حکومت میں یہ تحریک ایک وبااور بلائے بے اماں کی شکل اختیارکرچکی ہے۔آج خودبھارت میں ہر صاحبِ ضمیرشخص یہ سوال کر رہا ہے کہ کیااب بھارت کاسیکولرآئین اندھااورانسانی حقوق کاکاعالمی منشوراپاہج ہو گیاہے؟کیااب بھارت میں کسی مہذب انسان کواپنے افکارکے مطابق زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں؟
مودی سرکارکی منافقت کایہ عالم ہے کہ سادھوکے بھیس میں جب بھی کبھی امن کے اشلوک دہراتاہے توکوئی بھی یقین کرنے کو تیارنہیں ہوتا۔جنگی جنون میں مبتلامودی کئی مرتبہ یہ ایسے اکھنڈبھارت کانعرہ لگا چکاہے کہ بحرہندکے ساحل پربسنے والاہرملک اکھنڈ بھارت کاحصہ ہے اوردوسری طرف ان کے سرپرست یہودی گریٹراسرائیل کے مبینہ نقشے کی سرحدیں بحرہند سے منسلک دکھائی گئی ہیں۔یہودوہنودکی درپردہ دوستی اب کھل کرسامنے آچکی ہے اورابھی حال ہی میں بھارتی ائیرفورس نے اسرائیل سے ہارڈ ویئر حاصل کرنے کے بعد’’راکس‘‘نامی نیم بیلسٹک میزائل کاتجربہ کیاہے۔ اسرائیل کی طرف سے تیار کردہ راکس سسٹم کی رینج 250کلومیٹرہے اوراسے’’ایس یو30ایم کے جیٹ‘‘کے ذریعے لانچ کیاگیا ہے تاکہ پاکستان کے جوہری مقامات کونشانہ بنایاجا سکے۔
بھارتی خبررساں ادارے ’’پرنٹ‘‘کے ذریعے اس کی کامیابی کا اعلان کیاہے،جس کے بعدیقیناخطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کاآغازہوگیاہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ فضا سے زمین تک مارکرنے والاایٹمی میزائل ہے جس کواسرائیلی دفاعی ٹیک کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم نے ڈیزائن اوربنایاہے اوراس میزائل کی ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کومنتقل کرنے کامعاہدہ ہواہے تاکہ ہندوستان اب اپنے ملک میں مزیدمیزائل بناسکے۔نئے میزائل نے بھارت کے پاکستان کے اہم انفراسٹرکچربشمول اس کی جوہری تنصیبات پرحملہ کرنے کے قابل ہونے کا خدشہ بڑھادیا ہے۔
یونیورسٹی آف البانی، یوایس اے سے ماہر تعلیم کرسٹوفر کلیری اورایم آئی ٹی سے وپن نارنگ نے2018میں خبردارکیاتھاکہ پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل نیوکلیئرہتھیارہیں لیکن اس مفروضہ کاکوئی ثبوت آج تک مہیانہیں کیاجاسکا-یہ چھوٹے جوہری ہتھیار جوعین اہداف پراستعمال کیے جاسکتے ہیں،ہندوستان کو’’سٹریٹجک فالج‘‘میں ڈال سکتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین’’ پہلے استعمال نہ کرنے‘‘کی جوہری پالیسی توموجودہے لیکن بصورت جنگ میں پاکستان کے پاس ان ٹیکٹیکل ہتھیاروں کی بنا پریہ صلاحیت موجودہے جو بڑے جوہری ہتھیاروں کی نسبت کہیں زیادہ تباہ کن ہیں جبکہ اب بھارت کو اسرائیلی میزائل’’راکس‘‘کے حصول کے بعدیہ صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔
کرسٹوفرکلیری اوروپن نارنگ کے اس بے بنیادمفروضے پرکیسے یقین کیاجائے جس کاآج تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ ایسے ہی مفروضے پرعمل کرتے ہوئے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی اوروہاں ڈیڑھ ملین افرادکواب تک موت کے گھاٹ اتاردیاگیا جبکہ اقوام متحدہ میں خودامریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے شرمندگی کے ساتھ عراق پرناجائز حملے کی اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا لیکن ہزاروں سال پرمحیط تہذیب سے مالامال ملک کوتباہ کرکے اس کوصدیوں پیچھے دھکیل دیاگیا، اس عظیم نقصان کوکون پوراکرے گا؟
مارچ 2013ء میں،براؤن یونیورسٹی میں واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیزکے ذریعہ آج تک کی عراق جنگ کی کل لاگت کا تخمینہ1.77ٹریلین ڈالرلگایاگیاتھا۔دفاعی اور معاشی ماہرین کاکہناہے کہ امریکی معیشت پرجنگ کی کل لاگت2053ء تک سودکی شرح سمیت3ٹریلین ڈالرسے6ٹریلین ڈالرتک ہوگی،جیساکہ واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں بیان کیاگیاہے کہ’’ ستم ظریفی تویہ ہے کہ امریکی اوراتحادی افواج کی تسلیم شدہ غلطی کاتاوان نجانے کب تک عراقی تیل کی صورت میں وصول کیاجاتارہے گا‘‘۔
غزہ فلسطین میں حالیہ اسرائیلی ظلم وستم ابھی ختم نہیں ہوئے کہ اسرائیل نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پرحملہ کرکے درجن سے زائدافراد کو شہیدکردیاجس کا مقصد غزہ پرہونے والے جرائم پرپردہ ڈالنے اوراپنے مغویوں کی بازیابی پرناکامی اورشکست سے توجہ ہٹاتے ہوئے ایران کے جواب پرامریکااوراس کے اتحادیوں کوایک بڑی جنگ میں ملوث کرنامقصودتھا۔اس واقعے کے فوری بعدایرانی صدرکاپہلی اسلامی ایٹمی قوت کا تین دن دورے کوناکام بنانے کے لئے امریکاکاکھلی دہمکیاں دینا بھی اس سازش کاپتہ دیتاہے کہ ایسے موقع پرمودی کااسرائیل کے اشتراک سے میزائل کاتجربہ کرنایقینا شکوک شبہات بڑھادیتاہے کہ کہیں عراقی جنگ شروع کرنے کے بے بنیاد بہانے کواس خطے میں دہرانے کی سازش تونہیں بنائی گئی جس کے بعدیہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ’’پہلے استعمال نہ کرنے‘‘کی پالیسی کوہوامیں اڑاتے ہوئے یہ خوفناک کھیل شروع کر دیاجائے جس کے لئے اس خطے میں مودی جیسے مکارکواستعمال کرتے ہوئے کہیں عالمی جنگ کاطبل نہ بجادیاجائے۔ان خدشات کی بناپریقینامودی جیساجنونی اب دنیا کے لئے ایک ایساخطرہ بن گیاہے کہ دنیاکے امن کے لئے اس کامداواازحدضروری ہوگیاہے۔

یہ بھی پڑھیں