Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑاہوں

دنیا بھرمیں مسلم ریاستوں کایہ المیہ ہے کہ یہاں کے حکمران اپنی عوام کوغلام اورخوداپنے اقتدارکیلئے استعمارکے غلام ہوتے ہیں۔اپنے چہروں پرایسے مضبوط نقاب پہنے ہوتے ہیں کہ جو بھی اس کوہٹانے کی کوشش کرتاہے،اسے ہٹا دیا جاتاہے۔تاریخ میں اس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔عالم عرب میں مردآہن کہلانے والے جمال عبدالناصرکے بارے میں منظرعام آنے والی برطانوی مصنف جیمزبارکی کتاب دی لارڈزآف ڈیزرٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ مصر میں 1952ء کافوجی انقلاب امریکاکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اکسانے اوراس کے عملی تعاون سے برپاہواتھا۔فوجی انقلاب کے ترجمان ریڈیواسٹیشن وائس آف عرب کاقیام بھی سی آئی اے کی مددسے ممکن ہوااورلیفٹیننٹ کرنل جمال عبدالناصر نے اپنے ساتھیوں کی ملی بھگت سے شاہ فاروق کاتختہ الٹ دیا۔ کتاب کے مصنف جیمزبارنے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مصرمیں اس فوجی انقلاب کی وجہ امریکااور برطانیہ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں اپنااپنااثرورسوخ بڑھانے کی کشمکش تھا۔برطانیہ مصری بادشاہ شاہ فاروق کی حمایت کر رہاتھاجبکہ سی آئی اے اپنے مجوزہ پروگرام کی تکمیل میں اسے رکاوٹ سمجھتے تھے۔
اس انقلاب کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مصری فوج کے اندر1948ء میں اسرائیل کے ہاتھوں غیرمتوقع شکست کی وجہ سے بہت بے چینی تھی اورمصری عوام بھی اپنی اس شکست پراس قدرجذباتی تھے کہ انہوں نے اس فوجی انقلاب کونہ صرف قبول کرلیابلکہ ناصرکواپنا ہیرومانتے ہوئے دیوانگی کی حدتک اس کے ہرعمل کی نہ صرف تائیدکی بلکہ اس کے تمام ناجائز اقدامات کوبسروچشم قبول بھی کرلیا۔سی آئی اے کو اپنے دوررس پروگرام کے مطابق آئندہ اس خطے میں اسرائیل جیسے ناسورکے ذریعے اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنامقصودتھا جس میں امریکاآج تک تمام عرب ممالک پراپنی اجارہ داری رکھنے میں کامیاب نظرآتاہے،اس لئے کرنل ناصراوراس کے ساتھیوں کی مددکرکے شاہ فاروق کاتختہ الٹنے میں تاخیر نہیں کی۔
برطانوی مصنف جیمزبارنے برطانوی دفتر خارجہ کی دستاویزات اوردیگر تاریخی دستاویزات کی مدد سے اپنی کتاب میں مشرق وسطیٰ کے بارے میں برطانیہ اورامریکاکے درمیان مسابقت اور تعاون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے یہ ثابت کیاہے کہ فوجی کارروائی سے دودن قبل کرنل ناصرنے برطانیہ اورامریکاکوفوج کی طرف سے ٹیک اوورکرنے کے منصوبے کے بارے میں باقاعدہ اعتماد میں لیاتھا۔اگرچہ انقلاب کی تمام ترمنصوبہ بندی جمال عبدالناصرنے سی آئی اے کی مددسے مکمل کی تھی جس میں طے کیاگیاکہ جنرل نجیب عہدے کے لحاظ سے سب سے سینئر،فوج میں اچھی شہرت،اپنے تجربے اورپروفیشنل کی بنا پر بہت مقبول ہیں،ان کوعارضی طورپر انقلاب کا سربراہ بنا دیا گیاکیونکہ عبدالناصرکے فوج میں جونیئررینک افسر ہونے کی وجہ سے فوج میں بغاوت ہونے کا بھی خدشہ تھا۔پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت کچھ ہی عرصے بعدجنرل نجیب کوہٹاکرکرنل ناصر نے 1956ء میں باقاعدہ مصر کے صدرکاعہدہ سنبھال لیا۔
اپنے مجوزہ منصوبہ بندی کے تحت سی آئی اے نے اس خطے میں جمال عبدالناصرکوہیروبنانے کیلئے ایک اورچال چلی اوراسی سال(1956)جب جمال عبدالناصر نے نہرسوئزکو قومی ملکیت میں لینے کااعلان کیاتوبرطانیہ اورفرانس نے اسرائیل کے ساتھ مل کرنہرپرقبضہ کرنے کیلئے مصر سے جنگ شروع کردی لیکن اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاورنے فرانس ، برطانیہ اوراسرائیل کو بزور طاقت کی دھمکی دیتے ہوئے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس پسپائی پربرطانیہ کوفوجی، سیاسی اور سفارتی محاذ پرانتہائی خفت کاسامناکرناپڑااوراس واقعہ کے بعدمشرق وسطیٰ میں اس کا اثرورسوخ کم ہوتا چلا گیا اورپوراخطہ امریکی حلقہ اثرمیں آگیا۔ اس سارے ڈرامے میں امریکاکی آشیر باد پر اسرائیل نے بڑی مکاری کے ساتھ برطانیہ اور فرانس کا ساتھ دینے کامحض کردارادا کیا جبکہ امریکا کے پیش نظرتومشرقی وسطیٰ پراپنا تسلط قائم کرنے کی بنیادی وجہ اس علاقے میں اسرائیل کی حفاظت اورمشرقی وسطیٰ کے تیل کے ذخائر تک رسائی اور اجارہ داری تھی جس میں وہ آج تک کامیاب نظر آتاہے۔
امریکی مددسے اسرائیل کو فوجی لحاظ سے تمام عربوں کے مقابلے میں اتنا طاقتور بنا دیا گیا کہ1967 ء کی جنگ میں مصر،شام اور اردن تین ممالک کی مشترکہ افواج کوچھ دنوں کے اندر اسرائیلی فوج نے شکست دے کربیت المقدس،غزہ اوربا قی ماندہ فلسطین، اردن کے مغربی کنارے، گولان کی پہاڑیوں اورمصر کے جزیرہ نماسینائی پر قبضہ کرلیا۔نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعدبھی اسرائیل کاان علاقوں پر(سوائے مصر کے جزیرہ نماسینائی)قبضہ برقرارہے۔
فوج کے ذریعے حکومتوں کوگرانے اور تبدیل کرنے کی سی آئی اے کی یہ سرگرمیاں صرف مصرتک محدودنہیں رہیں۔مصرمیں فوج کے ذریعے حکومت کاتختہ الٹنے کاجوسلسلہ 1952ء میں شروع ہواتھا،وہ1953ء میں ایران میں ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کوختم کرکے آگے بڑھایا گیا اور اس کے دس سال بعد صدام حسین نے عراقی بادشاہت کو بعث پارٹی کے ذریعے فوجی انقلاب برپا کرکے اقتدارپرقبضہ کرلیا۔2003 میں صدام کواقتدارسے ہٹانے کیلئے امریکا اور برطانیہ نے عراق پربراہ راست حملہ کرکے قبضہ کرلیا۔ ان واقعات کے بعدمیری نظرپاک وہند کے مابین ہونے والی محدودجنگ کارگل پر جاکررک جاتی ہے کہ کیاکارگل کی جیتی ہوئی جنگ کوشکست میں تبدیل کرکے مشرف کو اقتدار میں لانے اوربعد ازاں نائن الیون واقعے میں مشرف کی امریکاکی غیرمشروط حمائت کی بناپراس خطے میں امریکاکے تسلط کودوام دینے کی کوئی سازش تو نہیں تھی؟
اسی تناظرمیں مجھے جنرل(ر)باجوہ کی پاکستانی صحافیوں سے وہ ملاقات بھی یادآرہی ہے جس نے پاکستانی پریس کے ذریعے قوم کے سامنے باجوہ کاایک نیاچہرہ متعارف کروایا جس میں انہوں نے صحافیوں کواپنے احساسِ شکست کے ساتھ بھارت کے ساتھ جنگ نہ کرنے پرمحض اس لئے قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس اب لڑنے کے وہ وسائل میسرنہیں اورہمارے ٹینک اور دیگرجنگی اسلحہ بھی ان کے مقابلے میں کافی پرانا ہوچکا ہے۔ٹی وی پراس پروگرام کے نشرہوتے ہی مودی کے حمائت یافتہ پریس نے پورے ملک میں مودی کی تعریف میں زمین وآسمان کے جہاں قلابے ملانا شروع کردیئے اوربھارت میں گھی کے چراغ جلانے شروع کردیئے وہاں پاکستانی پریس اورقوم نے بیک آوازباجوہ کے محاسبہ کی بات شروع کردی اور اس معاملے پرباجوہ کے کورٹ مارشل کابھی مطالبہ شروع کردیا۔
امرواقعہ یہ ہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور فوج کے سپہ سالارنے پہلی مرتبہ ایک ساتھ امریکا کا دورہ کیاتواس موقع پرپینٹاگون میں قمرباجوہ کو21توپوں کی سلامی دی گئی جوایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ پینٹاگون نے اس سے قبل یہ اعزاز اپنے سب سے زیادہ وفادارجنرل مشرف کو نہیں بخشا توقمرباجوہ کی امریکابہادرکیلئے ایسی کیا خدمات تھیں جس کیلئے ان کو اس اعزازسے نوازا گیا۔ اس موقع پردونوں ملکوں کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا استقبال کیا اوربعدازاں آرمی چیف قمرباجوہ نے پینٹاگون میں امریکی فوجی قیادت سے ملاقات کی۔آرمی چیف سے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف مارک ملی نے بھی ملاقات کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی فوجی ہیروز کوخراج عقیدت پیش کیا۔ یقیناعراق،لیبیااور افغانستان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے امریکی فوجی ہی ان کے نزدیک ان کے ہیروتھے۔اسی دورہ امریکامیں وائٹ ہائوس میں جب عمران اورٹرمپ ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے تو اچانک ٹرمپ نے مسئلہ کشمیرپراپنی ثالثی کاعندیہ دیاتھا جس کے جواب میں عمران نے یہ بھی کہاایبٹ آبادمیں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن آئی ایس آئی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہوا تھا توسوال یہ پیداہوتا ہے کہ شکیل آفریدی کس جرم کی سزاکاٹ رہاہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں