تیری یاد سے شروع ہونے والا پاکستان فلم انڈسٹری کا سفر نوے کی دہائی میں عروج کی پوری انتہائوں کو چھونے کے بعد اختتام پذیر ہو چکا تھا۔بس اِکا دکا فلمیں ہی بن رہی تھیں۔باکس آفس پر فلموں کی مسلسل ناکامیوں نے ہر طرف مایوسی پھیلا دی تھی۔فن کار اور ٹیکنیشنز بے روزگار ہونے لگے تھے۔اس صورت حال نے فلم سے جڑے ہر شخص کو سخت ڈیپریشن میں ڈال دیا تھا۔فلمی لوگ ذہنی مریض بن چکے تھے۔کوئی بھی ان کا پرسانِ حال نہیں تھا۔آج ہم اِسی فلمی صنعت کا ذکر کر رہے ہیں جس کے فن کاروں نے کروڑوں دلوں پر راج کیا۔جس کا سنگیت سر چڑھ کو بولا۔70 کی دہائی میں فلم اپنے پورے عروج پر تھی۔سات،آٹھ نئی فلمیں ہر ہفتے نمائش کے لیے پیش ہوتیں۔جن میں سے کئی بہت سپر ہٹ ثابت ہوتیں۔باکس آفس پر اردو اور پنجابی فلموں نے 80 کی دہائی میں کامیابیاں سمیٹیں تو پشتو،سرائیکی اور سندھی فلموں کا دور بھی شروع ہو گیا۔یہ فلمیں نسبتاً کم بجٹ میں بنتیں اور انہیں اپنے سرکٹ میں کامیابی بھی ملتی۔بزنس اتنا زیادہ ہوتا کہ اسے دیکھ کر پشتو فلمیں بہت زیادہ تعداد میں بننے لگیں۔اس رجحان نے اردو اور پنجابی فلمیں بنانے والوں کو بھی پشتو کی طرف مائل کر دیا۔بدر منیر،بیدار بخت،جمیل بابر،طارق شاہ،یاسمین خان اور مسرت شاہین پشتو کے بہترین اداکار اور اداکارائیں بن گئیں۔ان کی قسمت کے ستارے چمکنے لگے۔فلمسازی اور فلم بینی کی تاریخ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔لیکن پاکستان کی فلم انڈسٹری بہت زیادہ عروج پانے کے بعد اب اپنے شاندار اور تابناک ماضی کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکی ہے۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر سال کروڑوں کا ریونیو قومی خزانے میں جمع کرانے والی انڈسٹری اب بے حال ہے۔ماضی میں بنائی گئی فلموں نے لالی وڈ کو جہاں ایک وقت میں ترقی دی،بے مثال کامیابیوں سے ہمکنار کیا،وہاں اس انڈسٹری سے وابستہ لوگ اب کسی نئی امید کے سہارے زندہ ہیں اور کسی مسیحا کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ ان کی مشکلات دور ہو سکیں اور ان کے دکھوں کا مداوا ہو سکےپاکستان میں اچھی اور موضوعاتی فلمیں ماضی میں بنتی رہی ہیں۔لیکن اکثریت ایسی فلموں کی بھی رہی ہے جو فرسودہ موضوعات پر تھیں۔نہ کہانی،نہ ڈھنگ کی ڈائریکشن۔تاہم جن نئے لوگوں نے فلمیں بنائیں اور فلم میکنگ میں تجربات کئے۔وہ انتہائی کامیاب رہے۔اس کی تازہ مثال لیجنڈ آف مولا جٹ ہے۔ یہ عالمی معیار کی ایسی فلم تھی جس نے ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں کروڑوں کا بزنس کیا۔فلم بزنس میں پاکستانی فلم کے حوالے سے کروڑوں کمانے کی نئی مثال قائم کی۔فلمسازی کا عمل ایک مشکل اور کٹھن کام ہے۔جس کی تکمیل تک کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔فلم بزنس نہ کرے، منافع نہ کمائے تو ناکامی سمیٹنے والا فلم میکر کبھی دوسری فلم بنانے کی نہیں سوچتا۔اس لیے جو پیسہ لگاتا ہے،پیسہ کمانے کی بھی سوچ رکھتا ہے،آخر کسی کو کیا پڑی ہے فلم کے ناکام ہونے پر اپنا کروڑوں روپیہ گنوا دے۔اس لیے ایک اچھی فلم کے لیے اچھی اور معیاری کہانی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔فلم میکر کے پاس مالی وسائل بھی اتنے ہونے چاہئیں کہ آسانی سے عالمی معیار کی فلم بنا سکے جو باکس آفس پر آئے تو بے حد کامیابی سمیٹے۔لہٰذا فلم میں جدت لانے کے لیے فلم انڈسٹری کو پڑھے لکھے تخلیق کاروں کی ضرورت ہو گی۔ہمارے بہت سے نوجوان فلم لائن میں آنا چاہتے ہیں،کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا مانے،پاکستان میں بھی باصلاحیت لوگ موجود ہیں جو معیاری فلم کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری میں پڑھے لکھے لوگ آئیں گے اور وقت کی ضرورت کو سمجھیں گے کہ سلور سکرین کو کس طرح کی فلموں کی ضرورت ہے تو فلم ترقی پائے گی۔پاکستان ڈرامے کو اگر دیکھیں تو اس کا معیار واقعی بہت اونچا ہے۔کہانی سے ڈائریکشن تک،سکرین پلے،اداکاری سب بہت عمدہ ہوتے ہیں۔تکنیکی اعتبار سے بھی ہمارا ڈرامہ بہت معیاری ہوتا ہے۔بھارت نے ہمارے ٹی وی ڈراموں سے متاثر ہو کر کئی کامیاب فلمیں بنائی ہیں۔ہماری موسیقی کے بھی بھارت میں چربے ہوتے رہے ہیں۔یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں،ماضی میں ہم بہت اچھی اور کامیاب فلمیں دے چکے ہیں جس سے ہمارے باصلاحیت ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
تاہم کہانیوں کا انتخاب کرتے ہوئے جب بھیڑ چال شروع ہوئی تو ناکامیاں ہمارے حصے میں آتی چلی گئیں۔ایک مولا جٹ کیا کامیاب ہوئی کہ پھر آنے والی ہر فلم ہی مولا جٹ کے گرد گھومنے لگی۔کامیڈی فلموں کا دور آیا تو کامیڈی فلمیں ہی بننا شروع ہو گئیں اور فلموں میں اس قدر یکسانیت آ گئی کہ باکس آفس نے ہماری فلموں کو قبول کرنا چھوڑ دیا۔اس طرح فلموں کا ڈائون فال شروع ہوا۔اور وہ انڈسٹری جو لوگوں کے لیے تفریح کا سستا اورموثر ذریعہ تھی،بدترین زبوں حال کا شکار ہو گئی۔پاکستانی فلموں کے فروغ کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ہمیں اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ ایسی کون سی باتیں ہو سکتی ہیں۔جن پر عمل کرکے ہم پاکستان فلم انڈسٹری کو پھر سے اپنے پائوں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔زیادہ دور نہ جائیں،دو سال پہلے کی بات کر لیتے ہیں۔ 2022 ایسا سال تھا جس میں کئی نئی فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوئیں۔پانچ بڑی فلموں کی بات کریں تو یہ فہرست بنانا بہت سہل ہے۔لیکن اگر مجھے پانچ ناکام فلموں کی فہرست بنانی ہو تو یہ میرے لئے مشکل ہو گی کیونکہ اس سال ناکامیوں کی فہرست بہت مختصر رہی،اور کامیابیاں بہت لامحدود۔اس سال فلم لیجنڈ آف مولا جٹ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پذیرائی سمیٹی۔دو سو کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی۔یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جس نے ریکارڈ بزنس کر کے سب کو حیران کر دیا۔سال 2022 پاکستانی سینما اور فلمی صنعت کے لیئے کیسا رہا؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔کرونا کی وبا نے جہاں دنیا کے ہر کاروبار کو متاثر کیا وہاں زیر نمائش فلمیں بھی اس وبا سے بہت متاثر ہوئیں۔ایسے میں کچھ تخلیق کاروں نے فلم میکنگ کو پرانی روش سے ہٹ کر نئی جدت سے روشناس کرایا۔ لیجنڈ آف مولا جٹکے کہانی کار اگرچہ ناصر ادیب تھے جو 70 کی دہائی میں فلم میکر سرور بھٹی کے لیئے سلطان راہی،آسیہ اور مصطفی قریشی کو لے کر یونس ملک کی ڈائریکشن میں مولا جٹ بنا چکے تھے۔ لیکن انہوں نے جب اپنی ہی کہانی کو ری میک کیا،70 کی دہائی والی مولا جٹ سے لیجنڈ آف مولا جٹ پر آئے،اسے لکھا تو اس میں نئی تکنیک کے ساتھ جدت کے تمام تقاصے پورے کئے۔باکس آفس پر یہ فلم شائقین کے مزاج اور سوچ سے ہم آہنگ ہوئی تو کامیابی اور بزنس کے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے۔پس ثابت ہوا کہ سلور سکرین کے لیے عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق اگر نئی تکنیک اور جدت سے ہم آہنگ فلمیں بنائی جائیں تو پاکستانی فلم انڈسٹری کو پھر سے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔حکومت کو بھی چاہیئے کہ فلم اور سینما انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔فلمیں نہ بننے سے ہمارے بے شمار فن کار اور تکنیک کار پس منظر میں چلے گئے ہیں۔کسمپرسی کی وہ جس حالت میں ہیں اس کا احوال بیان کرنا مشکل ہے۔